19/06/2026 18:50 - Economia
Buques de carga navegando por el Río Paraná en un día soleado, con la costa visible y silos de granos a lo lejos
ارجنٹائن کے صدر خاویر مائلی کی انتظامیہ نے ایک تاریخی فیصلہ کیا ہے۔ ان کی حکومت نے Vía Navegable Troncal (مرکزی آبی گزرگاہ) کی کنسیشن ایک بین الاقوامی کنسورشیم کو دے دی ہے۔ اس کنسورشیم میں بیلجیئم کی کمپنی Jan De Nul اور ارجنٹائن کی کمپنی Servimagnus شامل ہیں۔ انہوں نے اسے 25 سال کے لیے حاصل کیا ہے۔
یہ نیا معاہدہ نہ صرف ارجنٹائن کی معیشت کے لیے اہم ہے، بلکہ یہ خطے کی تجارت کے لیے بھی بہت اہمیت رکھتا ہے۔ اس آبی گزرگاہ سے ارجنٹائن کے علاوہ برازیل، بولیویا، اوروگوئے اور پیراگوئے کی تجارت بھی گزرتی ہے۔
پیرانا دریا پر واقع یہ آبی گزرگاہ ارجنٹائن کی معیشت کی شریان ہے۔ اس سے ملک کی 80 فیصد برآمدات گزرتی ہیں۔ زیادہ تر یہ اناج اور دوسری زرعی مصنوعات ہیں جو بیرونی منڈیوں میں بھیجی جاتی ہیں۔ اس نئی کنسیشن سے نہ صرف لاگت کم ہوگی بلکہ آبی گزرگاہ کو گہرا اور جدید بنایا جائے گا، جس سے بڑے بحری جہاز بھی آسانی سے آ سکیں گے۔
Jan De Nul بیلجیئم کی ایک بہت بڑی کمپنی ہے جو دنیا بھر میں بندرگاہوں اور آبی گزرگاہوں کی تعمیر اور دیکھ بھال کرتی ہے۔ یہ کمپنی ارجنٹائن میں پہلے بھی کام کر چکی ہے، 2021 تک اس نے اسی آبی گزرگاہ کا انتظام سنبھالا تھا۔ اب وہ ایک نئے معاہدے کے تحت واپس آ رہی ہے۔
خبر کا ماخذ: Infobae, El Día, El País
Alfredo S. Quiroga