13/07/2026 19:23 - Tecnologia
انسٹاگرام، جو دنیا بھر میں تصاویر اور کہانیاں بانٹنے کے لیے استعمال ہونے والا ایک بہت بڑا سوشل میڈیا پلیٹ فارم ہے، اس کی ملکیت رکھنے والی کمپنی میٹا (Meta) نے 13 جولائی 2026 کو اپنی ایک تازہ ترین اور متنازہ خصوصیت کو غیر فعال کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ یہ ٹول کمپنی کی آرٹیفیشل انٹیلیجنس (AI) کا حصہ تھا جو صارفین کی ذاتی تصاویر استعمال کر کے نئی تصاویر بنا سکتا تھا۔
ماہرین کے مطابق، یہ آپشن میٹا اے آئی (Meta AI) کی انٹیگریشنز کا حصہ تھا، جو کمپنی کا اے آئی اسسٹنٹ ہے۔ اس خصوصیت میں انسٹاگرام پر صارفین کی اپ لوڈ کی گئی تصاویر لے کر جنریٹو اے آئی (Generative AI) کے الگورتھم کے ذریعے نئی تصاویر یا ان میں ترمیم کرنے کی صلاحیت تھی۔
جنریٹو آرٹیفیشل انٹیلیجنس ٹیکنالوجی کی وہ شاخ ہے جو موجودہ ڈیٹا سے سیکھ کر نئا مواد (جیسے تصاویر، آڈیو، یا متن) بناتی ہے۔ اس کیس میں، میٹا کی اے آئی صارفین کی ذاتی تصاویر سے نئی چیزیں بنانے کی کوشش کر رہی تھی۔
اس ٹول کے متعارف ہونے پر ڈیجیٹل کمیونٹی میں بحث چھڑ گئی۔ سائبر سیکیورٹی کے ماہرین اور ڈیجیٹل پرائیویسی کے حامیوں نے خبردار کیا کہ کسی کی ذاتی معلومات (جیسے چہرہ) کو واضح اجازت کے بغیر استعمال کرنا خطرناک ہو سکتا ہے۔ تاہم، صارفین کی فکر کو مدنظر رکھتے ہوئے میٹا نے ایک بہترین فیصلہ کرتے ہوئے اس فنکشن کو واپس لے لیا۔
یہ فیصلہ اس بات کا ثبوت ہے کہ بڑی ٹیکنالوجی کمپنیاں صارفین کی رازداری کو سنجیدگی سے لے رہی ہیں۔ اس مثبت تبدیلی سے ڈیجیٹل دنیا میں اخلاقیات اور ذاتی ڈیٹا کے تحفظ کی امیدیں پیدا ہوئی ہیں۔
ڈیٹا کے تحفظ کی طرف ایک قدم
اس فنکشن کو ہٹانا اس بات کی تصدیق کرتا ہے کہ ٹیکنالوجی کمپنیاں نئی اے آئی خصوصیات متعارف کرانے سے پہلے صارفین کی رازداری کے اثرات کا جائزہ لیں گی۔
Alfredo S. Quiroga