01/07/2026 16:45 - Tecnologia
خلائی تحقیق کی تاریخ میں ایک نئے باب کا آغاز ہو رہا ہے۔ ناسا اور نجی کمپنی کٹالسٹ اسپیس ٹیکنالوجیز مل کر 30 ملین ڈالر کی ایک بچاؤ مہم تیار کر رہی ہیں تاکہ نیل گیہریلز سوئفٹ خلائی دوربین کو محفوظ بنایا جا سکے۔
یہ دوربین تقریباً 50 کروڑ ڈالر کی ہے اور 2004 میں لانچ کی گئی تھی۔ گذشتہ دو دہائیوں میں فضائی کھچ کی وجہ سے اس کی بلندی کم ہوتی چلی گئی ہے۔ یہ 600 کلومیٹر سے گر کر اب تقریباً 360 کلومیٹر پر ہے۔
اس مہم میں لنک نامی روبوٹک سیٹلائٹ استعمال ہوگا، جسے کٹالسٹ نے تیار کیا ہے۔ یہ نارتھروپ گرومین کے راکٹ پیگاسس ایکس ایل پر لانچ ہوگا۔
لانچ کی جگہ: کواجیلین ایٹول، مارشل جزائر کی جمہوریہ
نکتہ نظر: اکتوبر 2026 تک اگر مداخلت نہ ہو تو دوربین فضاء میں داخل ہو جائے گی۔
خلائی تحقیق میں سوئفٹ کو "کثیر المقاصد آلہ" کہا جاتا ہے۔ یہ گاما شعاعیں اور دیگر عارضی مظاہر کا مطالعہ کرتا ہے۔
اہم معلومات:
کامیابی کی صورت میں یہ امریکی خلائی روبوٹ کی پہلی بچاؤ مہم ہوگی۔ یہ سیٹلائٹس کی زندگی بڑھانے کی ٹیکنالوجی کا اہم قدم ہے۔
سوئفٹ میں اپنا پروپلشن سسٹم نہیں ہے، اس لیے یہ خود کو نہیں بچا سکتا۔
2022 میں ناسا کی DART مہم نے کامیابی سے Dimitros کے مدار کو تبدیل کیا۔ یورپی خلائی ایجنسی کی ہیرا مہم 2024 میں لانچ ہوئی اور 2026 میں پہنچے گی۔
ماخذ: Deutsche Welle / ناسا
Alfredo S. Quiroga