27/06/2026 12:54 - Tecnologia
یورپی خلائی ایجنسی (ESA) نے ایک ایسا کارنامہ انجام دیا ہے جو ماہرین فلکیات کے لیے خواب سے کم نہیں تھا: ہماری کہکشاں کے مرکز کی وہ تصویر لینا جو تاریخ کی سب سے تفصیلی تصویر ہے۔ یورکلڈ خلائی دوربین، جسے اصل میں کائنات کی تاریک مادے اور توانائی کا مطالعہ کرنے کے لیے تیار کیا گیا تھا، نے اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا ہے۔
اس شاہکار کے نتیجے میں ہماری کہکشاں کے مرکز کا مکمل ترین ستاروں کا کیٹلاگ تیار کیا گیا ہے، جو دہائیوں سے ماہرین فلکیات کی تمنا رہا ہے۔
حتمی تصویر میں درجنوں ملین ستارے، ساتھ ہی ساتھ نیبولائی (ستاروں کے درمیان گیس اور دھول کے بادل) اور ستاروں کے جھرمٹ بھی واضح نظر آ رہے ہیں، جو پہلے دھندلے تھے۔
یورکلڈ نے جو کام صرف ایک دن اور دو گھنٹوں میں انجام دیا، وہ زمینی ٹیلی سکوپوں جیسے کہ ہوائی میں واقع کیک رصدگاہ (Keck Observatory) کو 2,000 سے زائد گھنٹے لگتے۔
یورکلڈ نے آسمان کے ان علاقوں کی 9 الگ تصویریں لیں، جن میں سے ہر ایک تصویر کا رقبہ پوری چاندنی سے بھی بڑا تھا۔ پھر ان تصاویر کو ایک مکمل موزیک (Mosaic) کے طور پر جوڑا گیا، جو روایتی آلات کے لیے ناممکن تھا۔
اہم ترین بات یہ ہے کہ یورکلڈ خلا سے کام کرتا ہے، اس لیے زمین کی فضا کی مداخلت جو ستاروں کی روشنی کو مسخ کرتی ہے، اس سے مکمل طور پر بچا گیا۔
یہ تصویر صرف ایک حسین منظر نہیں ہے، بلکہ اس کا ایک اہم سائنسی مقصد ہے: کشش ثقل کے خردبینی اثرات (Gravitational Microlensing) کا پتہ لگانا۔ یہ ایسا واقعہ ہے جب دو ستارے ٹیلی سکوپ کے نظریے میں ایک ہی سیدھ میں آ جاتے ہیں، اور قریبی ستارے کی کشش ثقل دور بیٹھے ستارے کی روشنی کو بڑھا کر دکھاتی ہے۔
طریقہ کار: اگر قریبی ستارے کا کوئی سیارہ ہے، تو اس کی کشش ثقل روشنی میں غیر معمولی تبدیلی پیدا کرتی ہے، جس سے اس بیرونی سیارے (Exoplanet) کا پتہ چلتا ہے۔ اس طریقے سے پہلے ہی 300 بیرونی سیارے دریافت ہو چکے ہیں، لیکن اب یورکلڈ اور مستقبل کے ٹیلی سکوپ کی مدد سے درستگی بہت بڑھ جائے گی۔
یورکلڈ اکیلے نہیں ہے۔ ماہرین فلکیات اس کے ڈیٹا کو ہبل خلائی ٹیلی سکوپ اور ہوائی کے کیک رصدگاہ سے حاصل ہونے والی معلومات کے ساتھ ملا رہے ہیں۔ اس تعاون سے پہلے ہی دو منجمد بیرونی سیاروں کی کمیت کا حساب لگایا جا چکا ہے۔
یہ کیٹلاگ ناسا کے آنے والے نینسی گریس رومن ٹیلی سکوپ کے لیے ایک بنیاد کا کام کرے گا، جو آسمان کے اسی حصے کی تصاویر کا موازنہ کر کہ وقت کے ساتھ تبدیلیوں کو نوٹ کرے گا۔
یورکلڈ یورپی خلائی ایجنسی (ESA) کا ایک مشن ہے جسے جولائی 2023 میں لانچ کیا گیا تھا۔ اس کا بنیادی مقصد کائنات کی تشکیل میں تاریک مادے اور تاریک توانائی کے کردار کو سمجھنا ہے، جو کائنات کا تقریباً 95 فیصد حصہ ہیں لیکن ابھی تک ان پر بحث جاری ہے۔ اس کی آسمان کے بڑے علاقوں کو صاف تصاویر لینے کی صلاحیت اسے فلکیات کی دنیا میں ایک اہم اوزار بناتی ہے۔
ماخذ: Xataka
Alfredo S. Quiroga