پاکستان کے سابق وزیر اعظم عمران خان (73 سال) کو عدالتِ عظمیٰ کے حکم پر گزشتہ جمعہ 21 اگست 2026 کو اسلام آباد کے شفا انٹرنیشنل ہسپتال لے جایا گیا۔ تاہم چند گھنٹوں بعد انہیں طبی طور پر قابلِ علاج قرار دیتے ہوئے راولپنڈی کی اڈیالہ جیل واپس بھیج دیا گیا۔ ان کی صحت کی بگڑتی حالت کے باعث پوری دنیا میں تشویش پائی جاتی ہے۔

پاکستان کے سابق وزیر اعظم عمران خان (عمر 73 سال) کو 21 اگست 2026 کی صبح اسلام آباد کے شفا انٹرنیشنل ہسپتال منتقل کیا گیا۔ یہ اقدام عدالتِ عظمیٰ کے حکم کے بعد کیا گیا، جس نے 48 گھنٹوں کے اندر انہیں ہسپتال منتقل کرنے کی ہدایت دی تھی۔ تاہم چند گھنٹوں کے طبی معائنے کے بعد انہیں واپس راولپنڈی کی اڈیالہ جیل بھیج دیا گیا۔ ان کی پارٹی کے ترجمان نے اس بات کی تصدیق کی۔

عدالتی حکم اور منتقلی

عدالتِ عظمیٰ کا یہ فیصلہ ان ہفتوں کے شدید احتجاج اور عمران خان کی صحت کے بگڑتے حالات کی اطلاعات کے بعد سامنے آیا۔ ان کے وکلاء کا دعویٰ ہے کہ ان کی دائیں آنکھ کی بینائی کافی حد تک کم ہو گئی ہے اور جیل میں مجموعی حالت مزید خراب ہو رہی ہے۔ حکومت کی طرف سے کہا گیا ہے کہ طبی رپورٹس میں کوئی ایسی بیماری نہیں پائی گئی جس کے لیے فوری علاج کی ضرورت ہو۔

عدالت نے 18 اگست کو اپنے حکم میں قیدی کی زندگی، صحت، عزت اور تحفظ کی آئینی ذمہ داری پر زور دیا۔ اس کے علاوہ ایک طبی پینل کو، جس میں خان کے ذاتی معالج بھی شامل ہیں، سابق وزیر اعظم کا معائنہ کرنے کی اجازت دی گئی۔

سکیورٹی کے سخت انتظامات اور پارٹی کی ہدایت

منتقلی کے دوران ہسپتال کے ارد گرد سیکڑوں اہلکاروں کو تعینات کیا گیا۔ خان کی پارٹی پی ٹی آئی نے اپنے کارکنوں سے کہا کہ وہ ہسپتال کے سامنے احتجاج نہ کریں تاکہ علاج میں رکاوٹ نہ آئے۔ قومی اسمبلی کے سابق اسپیکر اور قریبی ساتھی اسد قیصر نے ایک پیغام میں کہا کہ جو بھی اس ہدایت کی خلاف ورزی کرے گا اس کا پارٹی سے کوئی تعلق نہیں ہوگا۔

پاکستان کے وزیر اطلاعات نے اعلان کیا کہ خان کو جیل واپس بھیج دیا گیا ہے کیونکہ "مجاز طبی ٹیم نے انہیں طبی طور پر قابلِ علاج قرار دیا"۔

صحت کے بارے میں تشویشناک تاریخ

کئی ماہ سے خان کے اہل خانہ اور پارٹی ان کے لیے خصوصی طبی امداد کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ فروری 2026 میں پی ٹی آئی کے عہدیداروں نے الزام لگایا تھا کہ خان کو شدید آنکھ کی تکلیف ہے اور ان کی بینائی صرف 15 فیصد رہ گئی ہے، اور وہ تنہائی میں رکھے گئے ہیں، بنیادی طبی دیکھ بھال اور خاندان یا وکلاء سے ملاقات کی اجازت نہیں ہے۔ آخر کار خاندان نے معاملہ عدالتِ عظمیٰ میں اٹھایا۔

اڈیالہ جیل اب مستقل احتجاج کی جگہ بن چکی ہے، جہاں اہل خانہ اور مظاہرین بہتر طبی سہولیات اور خان کی بہنوں سے ملاقات کی اجازت کا مطالبہ کر رہے ہیں۔

سیاسی اور عدالتی پس منظر

عمران خان کو 2023 میں گرفتار کیا گیا تھا اور بدعنوانی کے الزام میں تین سال قید کی سزا سنائی گئی تھی، جس کے ساتھ پانچ سال کے لیے سیاست پر پابندی بھی لگائی گئی تھی۔ 2025 میں انہیں ایک رئیل اسٹیٹ ڈیل کے سلسلے میں بدعنوانی کے ایک مقدمے میں 14 سال قید کی سزا سنائی گئی۔ خان اور ان کی پارٹی تمام الزامات کو سیاسی طور پر حوصلہ افزا قرار دیتے ہوئے مسترد کرتے ہیں۔

کرکٹ کے سابق کپتان عمران خان 2018 سے 2022 تک وزیر اعظم رہے، جب تک کہ انہیں تحریک عدم اعتماد کے ذریعے معزول نہیں کر دیا گیا۔ اس کے بعد سے وہ فوج کے زیر اثر سیاسی ظلم و ستم کا شکار ہونے کا الزام لگاتے رہے ہیں، جنہیں حکام نے مسترد کر دیا ہے۔

ردعمل اور آئندہ پیش رفت

عمران خان کا معاملہ پاکستان اور بین الاقوامی سطح پر بہت زیادہ توجہ حاصل کر رہا ہے۔ انسانی حقوق کی تنظیموں اور غیر ملکی حکومتوں نے ان کی قید کی شرائط اور صحت کے بارے میں تشویش کا اظہار کیا ہے۔ اگر ثابت ہوتا ہے کہ ہسپتال منتقلی ناکافی تھی تو عدالتِ عظمیٰ دوبارہ مداخلت کر سکتی ہے۔

فی الحال سابق وزیر اعظم جیل میں ہیں، لیکن ان کا معاملہ پاکستان کے عدالتی اور سیاسی نظام کی نزاکت اور فوجی طاقت کے حدود کو اجاگر کرتا ہے۔

یہ خبر مختلف بین الاقوامی خبر رساں اداروں کی رپورٹس پر مبنی ہے۔