حکومت نے ڈالر میں کریڈٹ کی فراہمی میں نرمی کا باقاعدہ اعلان کر دیا
ارجنٹائن کی قومی حکومت نے 15 اگست 2026 کو کمپنیوں کے لیے ڈالر میں کریڈٹ کی فراہمی میں نرمی کا باقاعدہ اعلان کر دیا ہے۔ یہ اقدام معاشی وزیر لوئیس کیپوٹو نے پہلے ہی جمعرات کو پریس کانفرنس میں پیش کیا تھا۔ اس فیصلے کو DNU 736/2026 کے ذریعے باقاعدہ کیا گیا، جو سرکاری گزٹ میں شائع ہوا اور ڈگری 905/02 کے آرٹیکل 23 میں ترمیم کرتا ہے۔ (ارجنٹائن میں DNU یا 'Decree of Necessity and Urgency' ایک ایسا صدارتی فرمان ہوتا ہے جو ہنگامی صورتحال میں بغیر پارلیمنٹ کے جاری کیا جاتا ہے)۔
اس ترمیم کے ساتھ، بینک اب ایسی کمپنیوں کو اپنی غیر ملکی کرنسی کے ذخائر کا 15% تک ڈالر میں قرضہ دے سکیں گے جو برآمدات سے آمدنی نہیں کماتیں (یعنی ان کی آمدنی اندرونی بازار سے پیسو میں ہوتی ہے)۔ شرط یہ ہے کہ قرض لیتے وقت کمپنیاں ان ڈالروں کو Mercado Único y Libre de Cambios (MULC) (ارجنٹائن کا واحد اور آزاد کرنسی بازار) میں فروخت کر کے پیسو میں تبدیل کر لیں گی۔
یہ زیادہ کریڈٹ پیدا کرے گا، شرح سود کو کم کرے گا، روزگار میں اضافہ کرے گا اور معیشت کو دوبارہ فعال کرنے میں مدد دے گا۔ ہم یقین رکھتے ہیں کہ ہم صحیح سمت میں قدم اٹھا رہے ہیں۔
حکومت کے مطابق، مالیاتی نظام کے پاس آج تقریباً 6 ارب ڈالر کی غیر ملکی کرنسی میں بے کار قرض دینے کی صلاحیت موجود ہے جسے پیداواری شعبے کی طرف موڑا جا سکتا ہے۔ سیکرٹری خزانہ فیڈریکو فوریاس نے اس اقدام کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ ڈالر کے سرکٹ کو فعال کرنا ضروری ہے کیونکہ ڈالر میں بچت 23 ارب ڈالر سے بڑھ کر 40 ارب ڈالر ہو چکی ہے اور بینک اس وقت ان ذخائر کا صرف 60% ہی قرضے دے رہے ہیں۔
سینٹرل بینک کے احتیاطی اقدامات
ارجنٹائن کا مرکزی بینک (BCRA)، جس کی سربراہی سانتیاگو باؤسیلی کر رہے ہیں، نے خطرات کو کم کرنے کے لیے احتیاطی شرائط مقرر کی ہیں۔ نئے کریڈٹس پر 25% زیادہ سرمایہ کی ضرورت ہوگی، ان کا حساب کریڈٹ نمائش کی حدود میں 1.25 گنا کیا جائے گا اور بینکوں کو کرنسی کی شرح میں تبدیلی کے خلاف ادائیگی کی صلاحیت پر سخت اسٹریس ٹیسٹ کرنے ہوں گے۔
تاہم، اس بات کو لے کر تنقید ہو رہی ہے کہ اس اعلان کی بجائے سے معاشی وزارت نے کیا اور مرکزی بینک کے صدر نے نہیں، خاص طور پر اس وقت جب حکومت خود BCRA کی آزادی کو مضبوط کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ ماہر معاشیات اور BCRA کے سابق جنرل مینیجر کارلوس پیریز نے اس پر سوال اٹھائے ہیں۔
ماہرین کی تنقید: 'ڈیسکلیس' (Descalce) کا خطرہ
اس بحث کا بنیادی نقطہ بینکوں اور کمپنیوں کا پیسو اور ڈالر کے درمیان زیادہ آزادی سے کام کرنا ہے۔ 'ڈیسکلیس' (Descalce) اس صورت حال کو کہتے ہیں جب کسی کمپنی یا فرد کی آمدنی ایک کرنسی (جیسے پیسو) میں ہو لیکن قرضہ دوسری کرنسی (جیسے ڈالر) میں ہو۔ اگر پیسو کی قدر گری ہو تو قرض لینے والے کے لیے ڈالر واپس کرنا بہت مشکل ہو جاتا ہے۔ یہ پابندی 2001 کے بحران کے بعد لگائی گئی تھی جب ہزاروں قرض لینے والوں کی آمدنی پیسو میں تھی لیکن قرضے ڈالر میں تھے۔
BCRA کے سابق صدر گائیڈو سینڈلرس نے کہا کہ اگرچہ انہوں نے موجودہ حکومت کی بہت سے اقدامات کی حمایت کی ہے، لیکن ڈالر میں قرضے دینے کے قوانین میں نرمی ایک برا خیال ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ ارجنٹائن میں بینکنگ کے سخت قوانین کے معاہدے کو کمزور کرتا ہے۔ ماہر معاشیات انڈریس نیومیر نے بھی اس بات پر زور دیا کہ یہ نظامی خطرات پیدا کر سکتا ہے۔
کیا معیشت پھر سے فعال ہو سکتی ہے؟
ماہرین کا خیال ہے کہ اس سے معیشت کو یقینی طور پر فائدہ نہیں ہوگا۔ ماہر معاشیات ڈیاگو کوٹز کا ماننا ہے کہ آج چھوٹی اور درمیانی کمپنیوں کا سب سے بڑا مسئلہ سرگرمی اور کھپت ہے، اور اس اقدام کا اس پر براہ راست اثر نہیں ہوگا۔ فرنینڈو مارول نے بھی اس بات سے اتفاق کیا کہ جو پہلے قرض لینے کے اہل تھے وہ رہیں گے، اور جو نہیں تھے وہ اب بھی قرض نہیں لے سکیں گے۔
تاہم، پیریز نے امید کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ اقدام صحیح سمت میں ہے اور معیشت کی بحالی میں مدد دے گا، حالانکہ انہوں نے اس وقت پر سوال اٹھائے ہیں جب ارجنٹائن کا مرکزی بینک کم ڈالر خرید رہا ہے اور ملک کا رسک پرمیم 450 پوائنٹس سے زیادہ ہے۔
اقتصادی صورت حال: سالانہ 2% کی شرح سے ترقی
یہ اقدام اس وقت آیا ہے جب معیشت کی ترقی کافی سست ہے۔ مرکزی بینک کے صدر سانتیاگو باؤسیلی نے اعتراف کیا کہ معیشت سالانہ تقریباً 2% کی شرح سے بڑھ رہی ہے، جو کہ امید سے بہت کم ہے۔ انہوں نے اس احتیاط کی وجہ معاشی اداکاروں کا 'خوف' اور 'سٹریس' قرار دی۔
مئی، جون اور جولائی 2026 میں کریڈٹ کے مثبت اعداد و شمار دیکھنے کو ملے ہیں۔ نجی شعبے میں ڈالر کے ذخائر 14.1 ارب ڈالر (دسمبر 2023) سے بڑھ کر 40.3 ارب ڈالر ہو گئے ہیں، جبکہ ڈالر میں قرضے 3.7 ارب ڈالر سے بڑھ کر 24.6 ارب ڈالر ہو گئے ہیں۔ جولائی میں مہانگیائی کی شرح 2.1% ماہانہ رہی، جو کہ ایک مثبت اشارہ ہے۔
سیاسی ردعمل اور مستقبل کی امیدیں
اس اقدام پر سیاسی ردعمل بھی سامنے آیا ہے۔ سابق صدر البرٹو فرنینڈز نے اس کی تنقید کی ہے، جبکہ سابق سیکرٹری ٹرانسپورٹ فرانکو موگیٹا نے اس دفاع میں کہا کہ قرضے میں اضافہ اس بات کا ثبوت ہے کہ عوام اور مالیاتی نظام کو استحکام کا احساس ہو رہا ہے۔
حکمراں جماعت نے 26 اگست کو ایک اہم اجلاس میں مرکزی بینک کے قوانین میں ترمیم کی منظوری دینے کا ارادہ کیا ہے، جس سے معاشی استحکام کی امیدتیں بڑھ گئی ہیں۔ حکومت امید کرتی ہے کہ آنے والے مہینوں میں معاشی صورت حال مزید بہتر ہو گی۔
تفصیلات کے لیے ماخذ: imago.com.ar