16/07/2026 15:43 - Internacionales
پینٹاگون (امریکی محکمہ دفاع کا صدر دفتر) نے اپنی افواج کو جدید بنانے کی طرف ایک اہم قدم اٹھایا ہے، جس میں فوجیوں کی ہارمونل صحت پر غیر معمولی توجہ دی گئی ہے۔ بین الاقوامی ذرائع کے مطابق جولائی 2026 میں، امریکی محکمہ دفاع نے اپنے فوجیوں میں ٹیسٹوسٹیرون ٹیسٹ نافذ کرنا شروع کر دیے ہیں۔ یہ اقدام نہ صرف جسمانی کارکردگی کو بہتر بنانے کے لیے ہے بلکہ فوجیوں کی مجموعی تندرستی کو یقینی بنانے کے لیے بھی ہے۔
یہ شاندار اقدام، جس کی قیادت امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگسیتھ کر رہے ہیں، کا بنیادی مقصد فوجیوں کی جسمانی اور ہارمونل حالت کا جائزہ لینا ہے تاکہ یہ یقینی بنایا جا سکے کہ وہ اپنے فرائض سرانجام دینے کے لیے بہترین حالت میں ہیں۔ ٹیسٹوسٹیرون ایک اہم ہارمون ہے جو پٹھوں کی نشونما، توانائی اور توانائی کی بحالی میں کلیدی کردار ادا کرتا ہے۔
جسمانی کارکردگی: اس ہارمون کی مناسب مقدار طاقت، برداشت اور سخت تربیت یا طویل مشن کے بعد تیزی سے بحالی کے لیے انتہائی ضروری ہے۔
ذہنی صحت اور تندرستی: ہارمونل توازن براہ راست موڈ پر اثر انداز ہوتا ہے، جس سے دائمی تھکاوٹ کم ہوتی ہے اور اعلی دباؤ کی صورتحال میں ذہنی وضاحت بہتر ہوتی ہے۔
یہ پروگرام اس بات کا ثبوت ہے کہ فوجی تیاری کے طریقوں میں ایک بڑی تبدیلی آ رہی ہے۔ اب فوجیوں کو صرف جنگی تربیت نہیں دی جاتی بلکہ انہیں اعلی کارکردگی کے کھلاڑیوں کی طرح دیکھا جاتا ہے۔ ہارمونل کمیوں کی نشاندہی کرنے سے فوجی ڈاکٹروں کو بہترین غذائیت، آرام اور اگر ضرورت ہو تو طبی علاج کے منصوبے بنانے میں مدد ملے گی، جس سے زخموں سے بچا جا سکے گا اور فوجی خدمات کو طول دیا جا سکے گا۔
ان طبی تجزیوں کا اطلاق ایک واضح اور مثبت پیغام دیتا ہے: امریکی فوج اپنے مرد و خواتین کو صرف دفاع کے اوزار کے طور پر نہیں دیکھتی، بلکہ انسانوں کی طرح دیکھتی ہے جن کی صحت سب سے پہلے آتی ہے۔ ہارمونل توازن کو ترجیح دے کر، پینٹاگون تھکاوٹ کی شرح کو کم کرنے اور ملک کے درپیش عالمی چیلنجوں کے خلاف اپنے اہلکاروں کی لچکدار صلاحیت کو بڑھانے کی امید کرتا ہے۔
اس جدید پالیسی کے ساتھ، امریکا فوجی اہلکاروں کی دیکھ بھال میں ایک نئے رجحان کی قیادت کر رہا ہے، یہ ثابت کرتے ہوئے کہ ایک فوج کی اصل طاقت اس کے ہر فرد کی مجموعی صحت میں پوشیدہ ہے۔
ماخذ: Cadena 3, CNN en Español
Alfredo S. Quiroga