14/07/2026 07:47 - Salud
ارجنٹائن کی خبر رساں ایجنسی انفوباے کی 13 جولائی 2026 کو شائع کردہ رپورٹ کے مطابق، سائنس کینسر کے خلاف جنگ میں ایک نئے اور دلکش دور کی طرف بڑھ رہی ہے۔ اس نئے طریقہ کار میں دشمن کو ہی انسانی جسم کا بہترین اتحادی بنا دیا جاتا ہے۔
روایتی طور پر، کینسر کے ٹیومر مدافعتی نظام کے الرٹس کو بند کر دیتے ہیں، جس سے وہ پہچانے بغیر بڑھتے ہیں۔ 'سوئچ طریقہ' اس عمل کو الٹنے کی کوشش کرتا ہے۔ جینیاتی یا سالماتی علاج کے ذریعے، سائنسدان ٹیومر خلیے کے اندر الرٹ کے سگنلز کو دوبارہ آن کرنا چاہتے ہیں۔
جب یہ سوئچ آن ہوتا ہے، تو کینسر کا خلیہ خاموش کارروائی کرنا چھوڑ دیتا ہے اور ایگریسیو طریقے سے اینٹیجنز (نشانیاں) ظاہر کرتا ہے، جو جسم کے سفید خلیات (T-Cells) کو ٹیومر پر حملہ کرنے کا الارم بجا دیتا ہے۔
یہ ایک ایسا حیاتیاتی علاج ہے جو بیماریوں سے لڑنے کے لیے جسم کی قدرتی دفاعی صلاحیت کو بڑھاتا ہے۔ کیموتھراپی کے برعکس، یہ براہ راست ٹیومر پر حملہ نہیں کرتا بلکہ مدافعتی نظام کو تیار کرتا ہے کہ وہ کینسر کو پہچان کر اسے تباہ کر دے۔
اس طریقہ کار کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ یہ ٹیومر کو خود اس کی تباہی کا ذریعہ بنا دیتا ہے۔ اگر ایک خلیہ دوبارہ پروگرام ہو کر اینٹیجنز پیش کرنے لگے، تو یہ نہ صرف مدافعتی نظام کو اپنی طرف متوجہ کرتا ہے بلکہ جسم کو دوسرے میٹاسٹٹک کینسر خلیات کو بھی پہچاننے اور تباہ کرنے کا علم سکھاتا ہے۔
اس پیش رفت اور اس کے پیچھے کام کرنے والے سائنسدانوں کی تفصیلات جاننے کے لیے، آپ انفوباے کی مکمل رپورٹ یہاں پڑھ سکتے ہیں۔
Alfredo S. Quiroga