01/07/2026 18:48 - Economia
ارجنٹائن میں کرنسی کی قدر میں اتار چڑھاؤ ایک عام سی بات ہے۔ یہ جنوبی امریکا کا دوسرا بڑا ملک ہے جہاں فی کس آمدنی کے لحاظ سے یہ ایک ترقی پذیر معیشت شمار ہوتا ہے۔ پیسو (ارجنٹائن کی کرنسی) کی قیمت ڈالر کے مقابلے میں مسلسل گرتی رہتی ہے، جس کی وجہ سے مقامی لوگوں کو اپنی بچت ڈالر میں رکھنی پڑتی ہے۔
بدھ 01 جولائی 2026 کو ڈالر کی فروخت کی قیمت 1,510 پیسوس تک پہنچ گئی، جو بینک ناسیون (Bank Nación - ارجنٹائن کا قومی بینک) کی طرف سے درج تھی۔ یہ قیمت پچھلے دنوں کی نسبت کافی زیادہ تھی۔
| اشاریہ | رقم |
|---|---|
| ڈالر فروخت (بینک ناسیون) | 1,510 پیسوس |
| ہول سیل ڈالر | 1,489 پیسوس |
| مستقبل کے معاہدے | + 1,000 ملین ڈالر |
| منسلک اوراق | ~ 500 ملین ڈالر |
Isaias Marini، جو One618 کے ماکرو اقتصادی ماہر ہیں، کا کہنا ہے کہ حکومت عملیت پسندی سے کام لے رہی ہے۔ ان کے مطابق مرکزی بینک کسی مخصوص نمبر کا دفاع نہیں کر رہا بلکہ صرف اتار چڑھاؤ کو محدود کرنا چاہتا ہے تاکہ قیمتوں پر اثر نہ پڑے۔
Francisco Díaz Mayer نے ABC Mercado de Cambios سے کہا کہ مرکزی بینک کو شاید اتنی جلتی قیمتوں کی توقع نہیں تھی۔ جون میں ڈالر میں 5% سے زیادہ کا اضافہ ہوا۔
"گندا تیرنا" (Dirty Float) ایک اصطلاح ہے جہاں مارکیٹ قیمت مقرر کرتی ہے لیکن مرکزی بینک شدید اتار چڑھاؤ کو نرم کرنے کے لیے مداخلت کرتا ہے۔ یہ اس لیے ضروری ہے کیونکہ ارجنٹائن میں مہنگائی بہت زیادہ ہے اور ڈالر کی قیمت میں اچانک اضافہ اشیائے خوراک کی قیمتوں کو بھی بڑھا دیتا ہے۔ سالانہ الاؤنس (Aguinaldo) کی ادائیگی بھی ڈالر کی مان میں اضافے کا باعث بنی۔
ارجنٹائن میں مہینے کی آمدنی "سو ی سو" (Sueldo) کہلاتی ہے جبکہ سال میں دو بار اضافی تنخواہ "اگینالڈو" (Aguinaldo) ملتی ہے - جون اور دسمبر میں۔ یہ اضافی رقم لوگوں کو ڈالر خریدنے پر مجبور کرتی ہے۔
Alfredo S. Quiroga