نیویارک فیشن ویک (NYFW) میں ایک ایسی غیر متوقع صورتحال پیدا ہوگئی جس نے پوری دنیا کی توجہ اپنی جانب کھینچ لی۔ COS کے ایک پروقار شو کے دوران PETA کے کارکنوں اور فیشن کی دنیا کے ایک بااثر شخص کے درمیان ہونے والی جھڑپ نے ایک بڑے استعفیٰ کی شکل اختیار کر لی ہے۔ جانیے اس ڈرامے کی مکمل تفصیلات۔

✨ فیشن کی دنیا: احتجاج بمقابلہ نظم و ضبط

نیویارک فیشن ویک، جسے دنیا بھر میں اسٹائل اور گلیمر کا مرکز مانا جاتا ہے، اس بار لباسوں کے بجائے ایک شدید تنازع کی وجہ سے خبروں میں ہے۔ PETA (جانوروں کے حقوق کے لیے کام کرنے والی عالمی تنظیم) کے کارکنوں نے COS (H&M گروپ کا برانڈ) کے رن وے پر گھس کر اون (wool) کے استعمال کے خلاف احتجاج کیا، جس نے پورے ایونٹ کو ہنگاموں میں بدل دیا۔

اصطلاحات کی وضاحت:

CFDA: کونسل آف فیشن ڈیزائنرز آف امریکہ، جو امریکی فیشن انڈسٹری کی سب سے طاقتور تنظیم ہے۔
PETA: ایک بین الاقوامی تنظیم جو جانوروں پر ہونے والے مظالم کے خلاف آواز اٹھاتی ہے۔

😱 وائرل لمحہ: جب غصہ قابو سے باہر ہوا

سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی ایک ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ Steven Kolb، جو کہ CFDA کے سی ای او تھے، کارکنوں کے ساتھ جسمانی جھڑپ میں ملوث ہو گئے۔ رپورٹ کے مطابق، کولب نے ایک کارکن کو زمین پر گرا دیا اور ان کا منہ ہاتھ سے بند کرنے کی کوشش کی۔ یہ عمل فیشن کی دنیا کے اعلیٰ ترین حلقوں میں اخلاقیات اور سفارت کاری کے خلاف سمجھا جا رہا ہے۔

📉 عروج سے زوال تک: استعفیٰ کی کہانی

اس واقعے کا اثر فوری اور شدید رہا۔ انسٹاگرام پر اپنے عمل کو "نامناسب" قرار دینے کے بعد، Steven Kolb نے ہفتہ 19 ستمبر 2026 کو باضابطہ طور پر اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا۔ دوسری جانب H&M Group نے ایک بیان جاری کر کے اس تصادم پر افسوس کا اظہار کیا تاکہ اپنے برانڈ COS کے امیج کو بچایا جا سکے۔

مزید تفصیلات کے لیے The Guardian ↗️ ملاحظہ کریں

کیا فیشن کی دنیا کو مکمل طور پر Cruelty-Free (جانوروں کے ساتھ ظلم سے پاک) ہونا چاہیے؟ ہمیں بتائیں! 👇