عالمی موسمیاتی سائنس اور تیل کی سیاست کا ٹکراؤ
دنیا بھر میں ماحولیاتی تبدیلیوں سے نمٹنے کے لیے ذمہ دار سب سے اہم ادارے، انٹر گورنمنٹل پینل آن کلائمیٹ چینج (IPCC)، کی ساکھ اس وقت خطرے میں ہے جب یہ معلوم ہوا ہے کہ اس کے کچھ اہم مصنفین کا براہ راست تعلق تیل کی صنعت سے ہے۔
The Guardian کی رپورٹ کے مطابق، اخراجات کی کمی اور خاتمے کے شعبے میں اگلی تشخیصی رپورٹ کے لیے مقرر کردہ 223 مرکزی مصنفین میں سے 20 ایسے ہیں جن کے مفادات متصادم ہیں۔ سب سے زیادہ تشویشناک بات یہ ہے کہ ان ماہرین میں سے نصف سے زیادہ کا تعلق سعودی عرب کے اداروں سے ہے، جن میں ریاست کی ملکیت والی تیل کمپنی سعودی آرامکو کے ملازمین بھی شامل ہیں۔
اصطلاحات کی وضاحت
IPCC کیا ہے؟ یہ اقوام متحدہ کا ایک ایسا ادارہ ہے جو خود تحقیق نہیں کرتا بلکہ دنیا بھر کے سائنسدانوں کی رپورٹس کا خلاصہ کرتا ہے تاکہ حکومتیں درست فیصلے کر سکیں۔
کاربن کیپچر: ایک ایسی ٹیکنالوجی جس کے ذریعے فیکٹریوں سے نکلنے والی گیسوں کو ہوا میں جانے سے پہلے پکڑ کر زمین میں محفوظ کر لیا جاتا ہے۔
🔍 جغرافیائی و سیاسی تناظر
سعودی عرب دنیا کے بڑے تیل برآمد کنندگان میں سے ایک ہے۔ ماہرین کا خیال ہے کہ IPCC میں ان کے نمائندوں کی موجودگی کا مقصد یہ ہو سکتا ہے کہ وہ "کاربن کیپچر" جیسی ٹیکنالوجیز کو فروغ دیں تاکہ فوسل فیول (تیل اور گیس) کا استعمال مکمل طور پر ختم کرنے کے بجائے اسے جاری رکھا جا سکے۔
| نام / ماہر | وابستگی / ادارہ | ممکنہ اثر |
|---|---|---|
| ڈاکٹر مصطفیٰ بابکر | سعودی آرامکو | تیل کی صنعت کے مفادات کی حمایت |
| ڈاکٹر ڈیگو ارمانڈو مویا پنٹا | سعودی آرامکو | پالیسیوں میں تبدیلی کا اثر |
| ڈاکٹر ملک النوری | سعودی وزارت توانائی | حکومتی ایجنڈے کی ترویج |
اس حوالے سے IPCC کا کہنا ہے کہ ان کی رپورٹس کی تیاری کا عمل اجتماعی اور سخت ہوتا ہے۔ ان کا دعہ ہے کہ سینکڑوں سائنسدانوں کی باہمی جانچ پڑتال کسی بھی ایک فرد یا ادارے کے ذاتی مفاد یا تعصب کو ختم کر دیتی ہے۔
🌐 مستقبل کے امکانات
- ادارہ اپنی ساکھ بچانے کے لیے مفادات کے اظہار کے قوانین کو مزید سخت کر سکتا ہے۔
- ممکن ہے کہ G7 ممالک اور یورپی یونین ان رپورٹس کے آڈٹ کا مطالبہ کریں۔
- آنے والی موسمیاتی کانفرنسوں میں تناؤ بڑھ سکتا ہے کیونکہ تیل پیدا کرنے والی ریاستوں کے اثرات پر بحث ہونے کا امکان ہے۔