روس کی حکومت نے ایک سخت اقتصادی اقدام کرتے ہوئے نیسلے (Nestlé)، اوشن (Auchan) اور لیرائے مرلن (Leroy Merlin) جیسی بڑی یورپی کمپنیوں کے آپریشنز کو اپنے قبضے میں لے لیا ہے۔ یہ اقدام یوکرین جنگ کے بعد روس میں موجود مغربی کمپنیوں کے لیے ایک بڑے جھٹکے کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، جس سے عالمی سرمایہ کاری کے مستقبل پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔

روسی ریاست کا کنٹرول: عالمی کمپنیوں پر اثرات

روسی حکومت نے نیسلے (Nestlé) کے 6 کارخانوں، جن میں تقریباً 7,000 ملازمین کام کرتے ہیں، اور اوشن (Auchan) کے 200 سے زائد اسٹورز سمیت لیرائے مرلن (Leroy Merlin) اور ایف ایم لاجسٹک (FM Logistic) کے اثاثوں کو عارضی انتظامیہ کے حوالے کر دیا ہے۔

اہم معلومات: ان تمام کمپنیوں کا انتظام اب L.E.W. Management نامی فرم کے پاس ہے، جس کی سربراہی اندرے کرائیوشکن (Andrej Krajuschkin) کر رہے ہیں۔

سیاسی پس منظر

یہ اقدام روس میں اسٹیٹ ڈوما (قومی اسمبلی) کے انتخابات (18-20 ستمبر) کے آغاز کے ساتھ ہوا ہے۔ یہ ایک ایسے وقت میں ہوا ہے جب امریکہ نے روسی توانائی خریدنے والے ممالک (چین، انڈیا، ترکیہ) پر 100% ٹیرف لگانے کی منظوری دی ہے، جس کے جواب میں روس نے یہ سخت قدم اٹھایا ہے۔

تزویراتی خطرہ (Strategic Risk)

بہت سی مغربی کمپنیوں نے 2022 میں روس چھوڑ دیا تھا، لیکن نیسلے نے وہاں رہنے کا فیصلہ کیا۔ اب کرملن نے ان اثاثوں کو ایک 'بکرہ' یا وسائل کے طور پر استعمال کیا ہے۔ یہ صورتحال کسی بھی غیر ملکی سرمایہ کار کے لیے "بدترین منظرنامہ" ہے جہاں ریاست آپ کی ملکیت پر قبضہ کر لیتی ہے۔

کمپنی ملک متاثرہ اثاثے اثرات
Nestlé سوئٹزرلینڈ 6 پلانٹس / 7 ہزار ملازمین آپریشنل کنٹرول کا خاتمہ
Auchan فرانس 200+ اسٹورز عارضی انتظامیہ کا قبضہ
Leroy Merlin فرانس اسٹورز کا نیٹ ورک ریاستی مداخلت

مقامی تناظر میں اس کا کیا مطلب ہے؟

آسان الفاظ میں، یہ بالکل ایسا ہی ہے جیسے کوئی کمپنی کسی ملک میں سرمایہ کاری کرے اور پھر حکومت قانونی تنازع کا بہانہ بنا کر اس کی دکان یا فیکٹری اپنے نام کر لے۔ یہ عالمی مارکیٹ میں ایک بڑی تبدیلی کی نشاندہی کرتا ہے جہاں اب کاروباری معاہدوں سے زیادہ سیاسی فیصلے اہمیت رکھتے ہیں۔