عالمی اقتصادی تناؤ کے درمیان، روسی حکومت نے مغربی سرمایہ کاری کے خلاف ایک سخت اقدام کرتے ہوئے نستلے کے پلانٹس اور اوشان (Auchan) سمیت کئی بڑی فرانسیسی کمپنیوں کے اسٹورز کا کنٹرول سنبھال لیا ہے۔ یہ اقدام اس وقت سامنے آیا ہے جب امریکہ نے روسی توانائی پر 100% ٹیرف عائد کیے ہیں، جس سے ماسکو اور مغرب کے درمیان خلیج مزید گہری ہو گئی ہے۔

روسیا کی ریاست کا مداخلت پسندانہ اقدام

رپورٹس کے مطابق، 18 ستمبر 2026 کو روس نے باضابطہ طور پر نستلے (Nestlé) کے 6 صنعتی پلانٹس اور وہاں کام کرنے والے 7,000 ملازمین، اوشان (Auchan) کے 200 سے زائد اسٹورز، اور لیرائے مرلن (Leroy Merlin) اور ایف ایم لاجسٹک (FM Logistic) کے اثاثوں کو ضبط کر لیا ہے۔

ان تمام کمپنیوں کا انتظام اب L.E.W. Management کے ہاتھ میں ہے، جس کی قیادت انڈری کرایوشکن (Andrej Krajuschkin) کر رہے ہیں۔

🌍 پس منظر: یہ سب کیوں ہو رہا ہے؟

روس ان بیرونی ممالک کی کمپنیوں کا قومیकरण (Nationalization) کر رہا ہے جو یا تو روس چھوڑنا چاہتے ہیں یا ان ممالک سے تعلق رکھتے ہیں جنہوں نے نیٹو (NATO) اور امریکہ کے ساتھ مل کر روس پر پابندیاں لگائی ہیں۔ قومیकरण کا مطلب ہے جب حکومت کسی نجی کمپنی کے اثاثوں کو ریاست کی ملکیت بنا لیتی ہے۔

کمپنی ضبط شدہ اثاثے تأثير/اثرات
نستلے (Nestlé) 6 صنعتی پلانٹس 7,000 کارکنان متاثر
اوشان (Auchan) 200 سے زائد ریٹیل اسٹورز سپلائی چین پر کنٹرول
لیرائے مرلن (Leroy Merlin) گھر کی سجاوٹ کے اسٹورز کا نیٹ ورک عارضی انتظامیہ کا کنٹرول

🔑 ٹیرف کی جنگ اور عالمی اثرات

یہ صورتحال ایک بڑے معاشی بدلے کی طرح ہے جہاں ڈونلڈ ٹرمپ نے ان ممالک پر 100% ٹیرف (درآمدی ٹیکس) لگانے کی منظوری دی ہے جو روسی توانائی خریدتے ہیں، جس سے چین اور بھارت جیسے ممالک متاثر ہو سکتے ہیں۔ دوسری طرف، یوکرین نے روس کی ریفائنریوں (تیل صاف کرنے والے کارخانوں) پر حملے تیز کر دیے ہیں۔

آگے کیا ہوگا؟

یہ اقدام یورپی سرمایہ کاروں کے لیے روس میں واپسی کے راستے بند کر سکتا ہے۔ اس سے پہلے ڈینون (Danone) جیسی کمپنی کو 1.2 بلین یورو کا نقصان اٹھانا پڑا تھا۔ یہ سب روسی پارلیمنٹ (Duma) کے انتخابات کے دوران ہو رہا ہے جہاں حکومت اپنی طاقت مضبوط کرنا چاہتی ہے۔