ایک نئی رپورٹ کے مطابق، 2001 سے برطانیہ میں دہشت گردی کے 6,539 گرفتاریوں میں سے 3,021 گرفتاریاں صرف پچھلے سال میں ہوئیں، جس کی بڑی وجہ فلسطین ایکشن گروپ پر پابندی ہے۔ سالانہ اضافہ 1,434 فیصد رہا، جبکہ خواتین اور 30 سال سے زائد عمر کے افراد میں اضافہ سب سے زیادہ رہا۔ یہ کیس نومبر میں سپریم کورٹ میں پیش ہوگا۔

برطانیہ میں دہشت گردی کے خلاف کارروائیوں میں ایک غیر معمولی اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ دی گارڈین کی ایک رپورٹ کے مطابق، 1 ستمبر 2026 کو شائع ہونے والی اس رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ 2001 میں 11 ستمبر کے حملوں کے بعد سے برطانیہ میں ہونے والی کل 6,539 گرفتاریوں میں سے تقریباً نصف (3,021) صرف پچھلے سال میں ہوئی ہیں۔ یہ عرصہ 31 مارچ 2026 کو ختم ہوا۔

یہ اضافہ 1,434 فیصد سالانہ ہے، جبکہ خواتین اور لڑکیوں کی گرفتاریوں میں 3,761 فیصد اور 30 سال یا اس سے زائد عمر کے افراد میں 2,306 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ یہ اعداد و شمار برطانوی وزارت داخلہ کی طرف سے جمع کیے گئے ہیں اور گرفتار افراد کی قسم میں ایک بڑی تبدیلی کی نشاندہی کرتے ہیں۔

فلسطین ایکشن کا عنصر

اس اضافے کی سب سے بڑی وجہ فلسطین ایکشن پر پابندی ہے، جو اسرائیل کے ساتھ اسلحے کی تجارت کے خلاف احتجاج کرنے والا ایک براہ راست ایکشن گروپ ہے۔ یہ پابندی 5 جولائی 2025 سے نافذ ہوئی، اور یہ برطانیہ کے دہشت گردی قانون کے تحت پہلا براہ راست ایکشن گروپ ہے جس پر پابندی لگائی گئی ہے۔ اس کے بعد سے، 3,600 سے زیادہ گرفتاریاں اس گروپ کی حمایت سے منسلک ہیں، جو 2001 کے بعد سے ہونے والی تمام گرفتاریوں کا نصف سے زیادہ ہے۔

ان گرفتاریوں میں سے، تقریباً 2,500 افراد پر دہشت گردی قانون کی دفعہ 13 کے تحت الزام عائد کیا گیا، جس میں کسی ممنوعہ گروپ کی حمایت کرنے پر 6 ماہ قید کی سزا ہو سکتی ہے۔ اس کے علاوہ، کم از کم 50 افراد پر دفعہ 12 کے تحت الزام لگایا گیا، جو کسی ممنوعہ گروپ کی حمایت کی دعوت دینے سے منع کرتی ہے، یہ جرم جیوری کے ساتھ مقدمے کی ضرورت ہے اور اس کی زیادہ سے زیادہ سزا 14 سال ہے۔

تنقید اور قانونی چیلنج

اس پابندی پر اقوام متحدہ کے ماہرین، این جی اوز، پراسیکیوشن سروس (DPP) کے سابق ڈائریکٹر اور سیکیورٹی سروسز کے سابق ڈائریکٹر کی طرف سے شدید تنقید کی گئی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ اقدام غیر متناسب ہے اور جائز احتجاج کو مجرم بناتا ہے۔ تنظیم لبرٹی نے اپنی ڈائریکٹر روتھ ایرلچ کے ذریعے پابندی کے خلاف قانونی چیلنج میں مداخلت کی، اور دہشت گردی کی تعریف کو اپ ڈیٹ کرنے کی درخواست کی تاکہ غلط استعمال سے بچا جا سکے۔

یہ کیس 4 نومبر کو برطانیہ کی سپریم کورٹ میں پیش ہوگا، جہاں فیصلہ کیا جائے گا کہ پابندی قانونی ہے یا نہیں۔ اس دوران، ڈیفینڈ آور جیوریز (DOJ) مہم نے “I oppose genocide, I support Palestine Action” (میں نسل کشی کے خلاف ہوں، میں فلسطین ایکشن کی حمایت کرتا ہوں) کے نعرے کے تحت احتجاج کا اہتمام کیا ہے۔

گرفتار افراد کا پروفائل اور پس منظر

وکیل راج چاڈا، جو ہوج جونز اور ایلن کی فرم سے ہیں، نے کہا کہ گرفتار افراد کا پروفائل روایتی دہشت گردوں سے نمایاں طور پر مختلف ہے: “یہ القاعدہ یا دولت اسلامیہ سے منسلک افراد نہیں ہیں، بلکہ وہ کارکن ہیں جو غزہ تنازع میں برطانیہ کی شمولیت کے خلاف احتجاج کر رہے ہیں”۔ جون میں، فلسطین ایکشن کے چار کارکنان پہلے افراد تھے جنہیں جائیداد کو نقصان پہنچانے (2024 میں برسٹل کے قریب ایلبیٹ فیکٹری میں توڑ پھوڑ) کے جرم میں “دہشت گردی سے تعلق” کے ساتھ سزا سنائی گئی۔

وزارت داخلہ کے ایک ترجمان نے گرفتاریوں کی قانونی حیثیت کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ “فلسطین ایکشن پر پابندی پارلیمنٹ نے منظور کی تھی اور اسے متناسب طریقے سے لاگو کیا جا رہا ہے”۔ تاہم، ناقدین کا کہنا ہے کہ سیاسی کارکنوں کے خلاف انسداد دہشت گردی کی قانون سازی کا استعمال ایک خطرناک مثال قائم کرتا ہے۔

اہم اعداد و شمار

اشارہقدر
2001 سے کل گرفتاریاں6,539
پچھلے سال میں گرفتاریاں (مارچ 2026 تک)3,021
سالانہ اضافہ1,434%
خواتین اور لڑکیوں میں اضافہ3,761%
30 سال سے زائد عمر میں اضافہ2,306%
فلسطین ایکشن سے متعلق گرفتاریاں3,600 سے زیادہ
دفعہ 13 کے تحت ملزمان~2,500
دفعہ 12 کے تحت ملزمانکم از کم 50

یہ خبر، جس پر ہارون صدیقی نے دستخط کیے ہیں، دی گارڈین پر دستیاب ہے۔