نیوزی لینڈ کا بچوں کو ڈیجیٹل خطرات سے بچانے کا عزم
نیوزی لینڈ کی حکومت نے ایک اہم قدم اٹھاتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ وہ 16 سال سے کم عمر بچوں کے لیے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کے استعمال پر پابندی کے لیے ایک نیا قانون پیش کرے گی۔ یہ اعلان وزیر اعظم کرسٹوفر لکسن نے پیر 24 اگست 2026 کو کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ سوشل میڈیا بچوں کو "نقصان دہ مواد، لت ڈالنے والی ٹیکنالوجی اور ان مسائل کا سامنا کروا رہا ہے جن سے نمٹنے کے لیے وہ تیار نہیں ہیں"۔
یہ اقدام ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب دنیا بھر میں نوجوانوں کی ذہنی صحت پر سوشل میڈیا کے منفی اثرات پر تشویش بڑھ رہی ہے۔ آسٹریلیا دسمبر 2025 میں دنیا کا پہلا ملک بن گیا تھا جس نے 16 سال سے کم عمر بچوں کے لیے ٹک ٹاک، یوٹیوب، انسٹاگرام اور فیس بک جیسی پلیٹ فارمز تک رسائی پر پابندی لگائی تھی۔
پابندی کیسے کام کرے گی؟
نیوزی لینڈ کے مجوزہ قانون کے مطابق، سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کو صارفین کی عمر کی تصدیق کرنی ہوگی۔ اس کے لیے درج ذیل طریقے استعمال کیے جا سکتے ہیں:
- موجودہ اکاؤنٹس کی معلومات
- چہرے کی شناخت کی ٹیکنالوجی
- ڈیجیٹل شناختی دستاویزات
جو کمپنیاں ان ہدایات پر عمل نہیں کریں گی، ان پر سالانہ عالمی آمدنی کا 10 فیصد تک جرمانہ عائد کیا جا سکتا ہے۔ یہ جرمانہ میٹا، ٹک ٹاک اور الفابیٹ جیسے ٹیکنالوجی جنات کے لیے ایک حقیقی ڈیٹرنٹ ثابت ہو سکتا ہے۔
سیاسی مخالفت: راستے میں ایک رکاوٹ
اس اعلان کے باوجود، اس قانون کو سیاسی چیلنجز کا سامنا ہے۔ ونسٹن پیٹرز، جو نیوزی لینڈ فرسٹ (NZ فرسٹ) پارٹی کے رہنما اور حکومتی اتحاد کے اہم رکن ہیں، نے اس اقدام پر سخت تنقید کی ہے۔ پیٹرز نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (سابقہ ٹویٹر) پر ایک پیغام میں آسٹریلیا کے قانون کو "بڑی ناکامی" قرار دیا اور خبردار کیا کہ اس قسم کے قوانین "ایک ڈھلوان راستے" کی مانند ہیں۔
پیٹرز، جو نیوزی لینڈ کے وزیر خارجہ بھی ہیں، کا موقف ہے کہ بچوں کو سوشل میڈیا سے دور رکھنا والدین کی ذمہ داری ہے، نہ کہ ریاست کی۔ یہ موقف قانون کی منظوری کے لیے ایک بڑا چیلنج ہے، کیونکہ حکومتی اتحاد میں شامل تمام جماعتوں کی حمایت ضروری ہوگی۔
آسٹریلوی مثال: کامیابی یا ناکامی؟
نیوزی لینڈ کا یہ اقدام اس کے پڑوسی ملک آسٹریلیا کی مثال پر مبنی ہے، جس نے دسمبر 2025 میں 16 سال سے کم عمر بچوں کے لیے سوشل میڈیا پر دنیا کی پہلی پابندی نافذ کی تھی۔ تاہم، نتائج ملے جلے ہیں۔ ایک حالیہ تحقیق سے پتہ چلا ہے کہ آسٹریلیا میں 16 سال سے کم عمر کے پانچ میں سے چار بچے اب بھی سوشل میڈیا استعمال کر رہے ہیں، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ پابندی عملی طور پر مکمل طور پر موثر ثابت نہیں ہوئی۔
وزیر اعظم لکسن نے اس قانون کی حدود کو تسلیم کیا: "میں یہ دعویٰ نہیں کروں گا کہ یہ آسان یا کامل ہوگا۔ ہم تمام بچوں کو سوشل میڈیا سے دور نہیں کر پائیں گے۔ کچھ ہمیشہ اس سے بچنے کا راستہ تلاش کر لیں گے، لیکن یہ اتنا اہم معاملہ ہے کہ کم از کم کوشش تو کی جائے"۔
عالمی تناظر: ایک بڑھتا ہوا رجحان
نیوزی لینڈ کا یہ اقدام ایک وسیع تر بین الاقوامی تحریک کا حصہ ہے۔ کئی یورپی ممالک اور امریکہ کی مختلف ریاستوں نے بچوں کے سوشل میڈیا استعمال پر اسی طرح کی پابندیاں نافذ کی ہیں یا ان پر غور کر رہے ہیں۔ عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) نے بچپن میں اسکرین کے زیادہ استعمال کے خطرات سے خبردار کیا ہے، جن میں نیند کی کمی، بے چینی اور ڈپریشن شامل ہیں۔
برطانیہ میں، اینڈی برنہم کی حکومت نے بچوں کو آن لائن نقصان دہ مواد سے بچانے کے لیے اقدامات کیے ہیں، جبکہ یورپی یونین میں ڈیجیٹل سروسز ایکٹ پر بحث جاری ہے، جس میں نوجوان صارفین کے تحفظ کے لیے مخصوص دفعات شامل ہیں۔
ردعمل اور اگلے مراحل
لکسن کے اعلان پر نیوزی لینڈ کے معاشرے میں ملا جلا ردعمل سامنے آیا ہے۔ والدین اور اساتذہ کی تنظیموں نے اس اقدام کو بچوں کے تحفظ کے لیے ایک ضروری قدم قرار دیا ہے، جبکہ ڈیجیٹل حقوق کے حامی نے نوجوانوں کی رازداری اور آزادی اظہار پر ممکنہ اثرات پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔
اب یہ قانون نیوزی لینڈ کی پارلیمنٹ میں قانون سازی کے عمل سے گزرے گا، جہاں NZ فرسٹ کی مخالفت اس کی منظوری کو پیچیدہ بنا سکتی ہے۔ توقع ہے کہ پارلیمانی بحث اگلے ہفتوں میں شروع ہوگی، اور حکومت اور سول سوسائٹی کے گروپس اس کی پیشرفت پر نظر رکھیں گے۔
دریں اثنا، یہ سوال اہم ہے کہ کیا یہ اقدام واقعی بچوں کی حفاظت کر پائے گا، یا جیسا کہ ناقدین کا کہنا ہے، یہ صرف نوجوانوں کو پلیٹ فارمز تک رسائی کے متبادل طریقے تلاش کرنے پر مجبور کرے گا، جبکہ مسئلے کی جڑیں حل نہیں ہوں گی۔