ایک تجربہ جو دل پر نقاشی گیا
ماریو پرگولینی، جو ارجنٹین کے ایک معروف ٹیلی ویژن پیش کرنے والے اور کاروباری ہیں، نے اپنے پروگرام 'اورٹرا دیا پردیو' (دوسرا کھویا ہوا دن) کے نشریوں میں، جو 21 اگست 2026 کو چینل التریس پر ہوا، اپنے ایک انکوتہ بادل ہوا۔ انہوں نے بتایا کہ جب وہ 1990 کی دہائی میں اپنے ثقافتی پروگرام 'ہاسیلو بری می' (میرے لیے یہ کرو) کے لیے رے چارلس کی ارجنٹین آمد کے بارے میں بات کر رہے تھے، تو انہوں نے اس ملاقات کے تلخ پہلوؤں سے پردہ اٹھایا۔
ماحول کی سردی
پرگولینی نے کہا: "رے چارلس ارجنٹین آتے ہیں اور پورے آکارجہ کے ساتھ آتے ہیں، سب کچھ لے کر۔ وہ پہلے آئے، اور سب ناراض اور بدمزاج تھے۔" انہوں نے اعتراف کیا کہ رے چارلس ان کے آئڈیل تھے، "میں ان کے بارے میں سب جانتا ہوں"، لیکن ابتدا ہی سے ٹیم نے سخت اصول لگائے: "ہمیں نہیں چھیڑنا، سلام کرناد منعی، بات نہیں کرنا۔" موسیقاروں کی ریہرسل شروع ہوئی اور تیسرے دفعے رے چارلس آکر کچھ نوٹ لگانے کے بعد چلے گئے۔ "رے چارلس موجود ہیں، وہ بیٹھے، انہوں نے بس اتنے نوٹ لگانے اور چلے گئے۔"
گانوں کا تنازع
جب پروڈکشن نے سمجھا کہ ریکنگ ابھی شروع ہوئی، لیکن ان کی عملے نے اعلان کیاکہ "ہم نے تین گانے کر لیے ہیں" اور وہ جانے کی تیاری کرنے لگے۔ پرگولینی نے یاد کیا: "رے چارلس کہا جا رہا ہے؟" ان کے منیجر، جنہیں انہوں نے 'پچیلے کست خانہ کش' کے طور پر متعارف کرایا، جب ان سے ریکائی جاری رکھنے کے لیے کہا گیا تو وہ مشتعل ہو گئے۔ آخر کار صرف آدھی گانے ریک ہو سکی، یا شاید دو گانے۔
پینل کے ردعمل
پروگرام میں شامل رادا ارستیران اور ایویلن بوٹو نے مختلف تشریح دی: "شاید وہ خراب نہیں تھا، بلکہ اس کے منیجر خراب تھے" اور "انہیں بتایا جاتا ہے کہ کہاں جانا ہے اور کیا کرنا ہے"۔ لیکن پرگولینی اپنی موقف پر قائم رہی: "ہم نے اس سے کہا، 'تم نے ایک گان بھی ریکارڈ نہیں کی'، لیکن وہ جا رہے تھے۔" یہ قصہ بہت سارے ذرائع ابلاغ مثلا انفو اوربی، لا ناسیون اور بارڈیو نیوز میں خوب گردش کیا گیا۔