بینکاری کے نظام میں استحکام کی جانب ایک بڑا قدم
سوئیٹزرلینڈ، جو اپنی مضبوط بینکاری اور مالیاتی استحکام کے لیے دنیا بھر میں مشہور ہے، اب اپنے سب سے بڑے بینک UBS پر مزید سخت کنٹرول عائد کر رہا ہے۔ ریاست کونسل نے اپنے اندرونی کمیشن کے پچھلے موقف میں تبدیلی کرتے ہوئے یہ فیصلہ کیا ہے کہ بینک کو اپنے بین الاقوامی سرمایہ کاری کے لیے 90% ہارڈ ایکویٹی (Hard Equity) یا بنیادی ذاتی سرمائے سے مدد حاصل کرنی ہوگی۔
اصطلاحات کی وضاحت
ہارڈ ایکویٹی (Hard Equity) کیا ہے؟
سادہ الفاظ میں، یہ وہ پیسہ ہے جو بینک کے پاس اپنے ذاتی ذرائع سے موجود ہوتا ہے (جیسے شیئرز کی فروخت)، نہ کہ ادھار لیا ہوا پیسہ۔ جب کوئی بینک زیادہ ہارڈ ایکویٹی رکھتا ہے، تو عالمی بحران کی صورت میں وہ زیادہ مستحکم رہتا ہے کیونکہ اسے قرض ادا کرنے کا دباؤ نہیں ہوتا۔
سسٹمک رسک (Systemic Risk) کیا ہے؟
یہ وہ خطرہ ہے جہاں ایک بڑے مالیاتی ادارے (جیسے UBS) کی ناکامی پورے ملک یا عالمی معیشت کو گرا سکتی ہے۔ اسے 'ڈومینو ایفیکٹ' بھی کہا جاتا ہے۔
پس منظر: Credit Suisse کا واقعہ
یہ سختیاں UBS اور Credit Suisse کے درمیان ہونے والے زبردستی کے انضمام (merger) کے بعد کی گئی ہیں۔ سوئیٹزرلینڈ کی حکومت نہیں چاہتی کہ مستقبل میں کسی بحران کی صورت میں عام شہریوں (ٹیکس دہندگان) کو بینک بچانے کے لیے اپنا پیسہ خرچ کرنا پڑے۔
چونکہ اب UBS کا سائز سوئیٹزرلینڈ کی مجموعی قومی پیداوار (GDP) کے مقابلے میں بہت بڑا ہو چکا ہے، اس لیے اس کی کسی بھی غلطی کا اثر پورے ملک پر پڑ سکتا ہے۔
ممکنہ اثرات اور مستقبل کے پیشین گوئیاں
| پہلو | ممکنہ اثر (Potential Impact) |
|---|---|
| آپریٹنگ اخراجات | بینک کے لیے سرمائے کے ذخائر رکھنا مہنگا ہو جائے گا، جس سے اخراجات میں اضافہ ہو سکتا ہے۔ |
| منافع (ROE) | سرمائے کی سخت شرائط کی وجہ سے بینک کے منافع کی شرح میں کمی آ سکتی ہے۔ |
| اثاثوں کی ترتیب | UBS کو اپنے غیر ملکی اثاثوں کو دوبارہ ترتیب دینا پڑے گا تاکہ 90% کے قانون پر عمل ہو سکے۔ |
ماخذ: Imago Argentina