عالمی ڈیلیوری پلیٹ فارم DoorDash نے نیویارک شہر کے ورکرز کے حقوق کے تحفظ کے ادارے (DCWP) کے ساتھ ایک تاریخی قانونی معاہدہ کیا ہے۔ تنخواہوں کی ادائیگی میں بڑی کوتاہیوں کے بعد، کمپنی 2 لاکھ 64 ہزار ڈیلیوری پارٹنرز کو 115 ملین ڈالرز کی ادائیگی کرے گی، جبکہ 16.7 ملین ڈالرز جرمانے کے طور پر حکومت کو دیے جائیں گے۔

مالیاتی تفصیلات (ایک نظر میں)
کل رقم 131.5 ملین ڈالر
ورکرز کے لیے 115 ملین ڈالر
حکومتی جرمانہ 16.7 ملین ڈالر
متاثرہ افراد 264,000 ورکرز

DoorDash نے اپریل 2022 سے جون 2026 کے درمیان تنخواہوں کی غلط حساب کتاب اور ادائیگیوں میں تاخیر کے تنازع کو ختم کرنے کے لیے یہ معاہدہ کیا ہے۔ اس تنازع کا بنیادی مرکز "انتظار کا وقت" (Waiting Time) تھا، یعنی وہ وقت جب ڈیلیوری ورکر ایپ پر فعال تو ہوتا ہے لیکن اسے کوئی آرڈر نہیں ملا ہوتا۔

پس منظر اور گگ اکانومی (Gig Economy) کیا ہے؟

یہ مسئلہ 2023 میں نیویارک کے نئے قوانین کے بعد سامنے آیا جو "گگ اکانومی" (Gig Economy) کے کارکنوں کے تحفظ کے لیے بنائے گئے تھے۔

گگ اکانومی: یہ ایک ایسا لیبر مارکیٹ ہے جہاں مستقل ملازمت کے بجائے عارضی یا فری لانس کام کیا جاتا ہے (جیسے Uber یا Foodpanda کے رائیڈرز)۔ نیویارک حکومت کا موقف تھا کہ DoorDash نے ایسے کمپیوٹر پروگرامز (Algorithms) استعمال کیے جو کمپنی کے منافع کو تو بڑھاتے تھے لیکن ورکرز کے کام کے گھنٹوں کو صحیح طریقے سے شمار نہیں کرتے تھے۔

ادائیگیوں کی تقسیم

ادائیگیوں کو دو حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے:

  • 83 ملین ڈالر: خاص طور پر انتظار کے وقت (Waiting Time) کی غلطیوں کو درست کرنے کے لیے۔
  • 18.3 ملین ڈالر: ان ادائیگیوں کے لیے جو یا تو لیٹ ہوئیں یا کبھی ملی ہی نہیں۔

حکومت نے حکم دیا ہے کہ متاثرہ ورکرز کو واجب الادا رقم کا 200% (دو گنا) دیا جائے، جس میں کم از کم ادائیگی 10 ڈالر اور اوسط ادائیگی 48 ڈالر متوقع ہے۔

کمپنی کا موقف اور مستقبل کی شرائط

DoorDash کا دعویٰ ہے کہ یہ غلطیاں تکنیکی خرابیوں (Bugs)، پیچیدہ راستوں اور بینکنگ ڈیٹا کی غلطیوں کی وجہ سے ہوئیں۔ تاہم، اب کمپنی پر سخت نگرانی ہوگی:

اگلے 3 سال تک ادائیگیوں کی رپورٹ جمع کرانا لازمی ہوگی۔
ایک نیا سافٹ ویئر بنانا ہوگا تاکہ ورکرز اپنی تنخواہ کی تفصیلات براہ راست حکومت کو بھیج سکیں۔
ممکنہ اثرات اور مستقبل کی امیدیں
  • یہ فیصلہ دنیا بھر کے دیگر شہروں کے لیے ایک مثال بن سکتا ہے تاکہ وہ بھی ڈیلیوری ایپس کے ادائیگی کے نظام کا آڈٹ کریں۔
  • امید ہے کہ اس سے ڈیلیوری ورکرز کی مالی حالت بہتر ہوگی اور انہیں ان کے وقت کی صحیح قدر ملے گی۔
  • کمپنی اب اپنے سسٹم کو مزید شفاف بنائے گی تاکہ مستقبل میں ایسی غلطیوں سے بچا جا سکے۔