امریکہ میں مزدوروں کے حقوق کی جنگ میں ایک بڑی کامیابی سامنے آئی ہے، جہاں 2025 کے دوران 411,000 نئے کارکنوں نے یونینز میں شمولیت اختیار کی۔ الینوائے اکنامک پالیسی انسٹی ٹیوٹ (ILEPI) کی رپورٹ کے مطابق، یہ 2008 کے بعد سب سے بڑی سالانہ ترقی ہے، جس سے مجموعی رکنیت 16.5 ملین تک پہنچ گئی ہے، جو کہ گزشتہ 16 سالوں میں سب سے بلند سطح ہے۔

امریکہ میں مزدور تحریک کا نیا عروج

مزدور یونینز (Labor Unions) وہ تنظیمیں ہوتی ہیں جہاں ملازمین مل کر اپنی تنخواہوں اور کام کے حالات کو بہتر بنانے کے لیے کمپنی کے مالکان سے مذاکرات کرتے ہیں۔


الینوائے اکنامک پالیسی انسٹی ٹیوٹ (ILEPI) اور یونیورسٹی آف الینوائے کے Project for Middle Class Renewal کی ایک حالیہ رپورٹ کے مطابق، 2025 میں امریکی مزدور یونینوں کی رکنیت میں حیران کن اضافہ دیکھا گیا ہے۔ 411,000 نئے کارکنوں کے شامل ہونے سے مجموعی تعداد 16.5 ملین ہو گئی ہے، جو گزشتہ 16 برسوں کا سب سے بڑا ریکارڈ ہے۔

قومی سطح پر یونین کی رکنیت کی شرح 9.9% سے بڑھ کر 10.0% ہو گئی ہے۔ یہ اضافہ اس وقت ہوا ہے جب مہنگائی میں اضافہ اور تنخواہوں میں عدم توازن ایک بڑا مسئلہ بن چکا ہے۔ رپورٹ بتاتی ہے کہ یونینز کی وجہ سے اوسط تنخواہوں میں 8% اضافہ دیکھا گیا ہے۔

حمایتی ریاستیں

ان ریاستوں میں جہاں 'اجتماعی مذاکرات' (Collective Bargaining) کے حقوق محفوظ ہیں، وہاں 2025 میں تقریباً 305,000 نئے ارکان شامل ہوئے۔ یہاں کل 10.9 ملین کارکن یونین کا حصہ ہیں، اور ان کی رکنیت کی شرح سخت قوانین والی ریاستوں کے مقابلے میں تقریباً تین گنا زیادہ ہے۔

سخت قوانین والی ریاستیں

جن ریاستوں میں 'Right-to-Work' (کام کا حق) کے قوانین ہیں (جو اکثر یونینز کی طاقت کو کم کرتے ہیں)، وہاں 107,000 نئے ارکان شامل ہوئے۔ یہاں کے کارکنوں کی تنخواہیں حمایتی ریاستوں کے مقابلے میں 8% کم ہیں۔

قانونی تبدیلیاں اور عوامی رائے

سال 2025 میں 19 ریاستوں نے 88 نئے قوانین منظور کیے تاکہ کارکنوں کے حقوق کو وسعت دی جا سکے۔ ان میں ورجینیا میں بامعاوضہ طبی چھٹیاں اور واشنگٹن میں غیر منصفانہ معاہدوں کی ممانعت شامل ہے۔

سروے ادارہاہم نتیجہفیصد (%)
Gallupیونینز کی حمایت کرنے والے امریکی71%
AFL-CIOیونینز پر بھروسہ کرنے والے لوگ52%
نوجوانوہ نوجوان جو موقع ملنے پر یونین میں شامل ہونا چاہتے ہیں57%

رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ امیر اور غریب کے درمیان خلیج بڑھ رہی ہے، جہاں کمپنیوں کے سی ای اوز (CEOs) اوسط کارکن کے مقابلے میں 312 گنا زیادہ کماتے ہیں۔ سخت قوانین والی ریاستوں میں ایک عام کارکن کو سالانہ 4,000 ڈالر کا نقصان اٹھانا پڑتا ہے۔

مآخذ: The Guardian

متعلقہ