ارجنٹائن کے ادارہ شماریات (INDEC) کے مطابق جولائی 2026 میں مہنگائی کی شرح 2.1 فیصد رہی، جس نے تین ماہ کی سست روی کا سلسلہ توڑ دیا۔ حکومت اسے کامیابی قرار دے رہی ہے، لیکن نجی مشاورتی اداروں نے نئے اشاریے کی بنیاد پر افراط زر کا تخمینہ لگایا ہے اور خبردار کیا ہے کہ اصل صورتحال مزید تشویشناک ہو سکتی ہے۔

ارجنٹائن جنوبی امریکہ کا دوسرا بڑا ملک ہے، جو اپنی معاشی اتار چڑھاؤ کے لیے جانا جاتا ہے۔ یہاں مہنگائی کی شرح پچھلے کئی سالوں سے بہت بلند رہی ہے، اور یہ ملک کی معاشی پالیسیوں کا مرکزی چیلنج ہے۔

جولائی 2026 میں ارجنٹائن کی ماہانہ افراط زر 2.1 فیصد رہی، جیسا کہ INDEC نے 13 اگست 2026 کو اعلان کیا۔ یہ اعداد و شمار ان تین ماہ کی سست روی کے سلسلے کو توڑتے ہیں جب جون میں مہنگائی 1.9 فیصد تک کم ہو گئی تھی۔ سال کی مجموعی افراط زر اب 19.3 فیصد تک پہنچ گئی ہے، جبکہ سالانہ شرح 33.8 فیصد ہے۔

لیکن اس سرکاری اعداد و شمار کے پیچھے ایک اہم طریقہ کار پر بحث چھپی ہے: اگر INDEC اپنی پرانی کھپت کی ٹوکری کے بجائے ENGHo 2017/18 سروے کی بنیاد پر نیا اشاریہ استعمال کرتا، تو مہنگائی کی شرح کتنی ہوتی؟ حکومت نے اس سال جنوری میں یہ تبدیلی روک دی تھی۔

سرکاری ڈیٹا: اجزاء اور شعبے

کور افراط زر 1.8 فیصد بڑھا، موسمی اشیاء کی قیمتوں میں 4.5 فیصد اضافہ ہوا، جبکہ ریگولیٹڈ قیمتیں 2.1 فیصد بڑھیں۔ سب سے زیادہ اضافہ تفریح اور ثقافت (5.0 فیصد) میں ریکارڈ کیا گیا، اس کے بعد ریستوران اور ہوٹل (2.8 فیصد) رہے۔ دوسری طرف، لباس اور جوتے میں 1.3 فیصد کمی ہوئی، جو وزارت خزانہ کے مطابق تاریخی ریکارڈ میں سب سے بڑی کمی ہے۔

علاقائی سطح پر، بیونس آئرس اور اس کے مضافات میں سب سے زیادہ افراط زر 2.3 فیصد رہی، جبکہ پٹاگونیا، شمال مشرق، شمال مغرب اور پامپا کے علاقوں میں 2 فیصد اور کویو میں 1.9 فیصد رہی۔

نئی ٹوکری پر تنازع: اصل افراط زر کتنی تھی؟

جنوری 2026 میں INDEC نے منصوبہ بنایا تھا کہ وہ 2004 کے سروے سے حاصل کردہ کھپت کی ٹوکری کو ENGHo 2017/18 کی بنیاد پر تبدیل کرے گا۔ یہ تبدیلی صارفین کے نئے رجحانات کی عکاسی کرنے کے لیے تھی، لیکن حکومت نے پرانی ساخت کو برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا۔

دو نجی مشاورتی اداروں نے تخمینے لگائے ہیں کہ نئی ٹوکری کے ساتھ جولائی کی مہنگائی کتنی ہوتی:

ادارہماہانہ افراط (جولائی)سال 2026 کی مجموعی
LCG2.5%21.3%
Equilibra2.1% (سرکاری کے برابر)20.5%

فرق اشیاء کے وزن میں ہے۔ نئی ٹوکری میں خدمات کو زیادہ اہمیت دی جائے گی: رہائش کا وزن 9.4 فیصد سے بڑھ کر 14.5 فیصد، نقل و حمل 11 فیصد سے 14.3 فیصد، اور مواصلات 2.8 فیصد سے 5.1 فیصد ہو جائے گا۔ اس کے برعکس، خوراک اور مشروبات کا وزن 26.9 فیصد سے کم ہو کر 22.7 فیصد رہ جائے گا۔

جولائی میں خدمات کی قیمتوں میں 3.1 فیصد اضافہ ہوا، جبکہ اشیاء صرف 1.6 فیصد بڑھیں۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اگر خدمات کو زیادہ وزن دیا جاتا تو مہنگائی کی شرح زیادہ ہوتی۔ LCG کے مطابق نئی ٹوکری کے ساتھ جولائی میں افراط زر 2.5 فیصد ہوتی، جبکہ سالانہ مجموعی 21.3 فیصد ہوتی۔ Equilibra کا کہنا ہے کہ ماہانہ شرح وہی رہتی (2.1 فیصد) لیکن سالانہ مجموعی 20.5 فیصد ہوتی۔

طریقہ کار پر تنقید اور اجرت پر اثر

پرانی ٹوکری کو برقرار رکھنے کا فیصلہ تنقید سے محفوظ نہیں ہے۔ اپوزیشن اور سماجی تنظیموں کا کہنا ہے کہ یہ طریقہ کار جان بوجھ کر خدمات کی قیمتوں کے اثر کو کم کرتا ہے، جس سے مزدوروں کی قوت خرید کی اصل صورتحال چھپ جاتی ہے۔

Prensa Obrera کے اعداد و شمار کے مطابق، بنیادی خوراک کی ٹوکری (CBA) جولائی میں 2.6 فیصد بڑھی اور سالانہ اضافہ 37.4 فیصد رہا۔ بنیادی کل ٹوکری (CBT) میں 2.2 فیصد اضافہ ہوا اور سالانہ شرح 36.1 فیصد رہی، جو 1,564,000 پیسو سے تجاوز کر گئی۔ اس کا مطلب ہے کہ ضروری خوراک کی قیمتیں اوسط سے زیادہ بڑھیں، جس سے کم آمدنی والے خاندانوں کو زیادہ نقصان پہنچا۔

اجرت کے معاملے میں، مئی کے اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ رجسٹرڈ کارکنوں کی اجرت افراط زر سے پیچھے رہ گئی ہے، جس میں حقیقی سالانہ کمی 3.4 فیصد ہے (نجی شعبے میں 2.9 فیصد اور سرکاری شعبے میں 4.3 فیصد)۔ نومبر 2023 سے، اوسط نقصان 8.7 فیصد تک پہنچ گیا ہے، جبکہ سرکاری ملازمین کو تقریباً 18 فیصد کا نقصان ہوا ہے۔

اگست کی پیشن گوئی اور گھریلو کھپت

Analítica مشاورتی ادارے کے ڈائریکٹر Claudio Caprarulo نے پیش گوئی کی ہے کہ اگست میں افراط زر تقریباً 2.1 فیصد رہے گی، جیسا کہ انہوں نے La Voz En Vivo سے گفتگو میں کہا۔ یہ شرح جولائی کے مقابلے میں تیزی کی طرف اشارہ کرتی ہے، جس کی وجہ موسمی عوامل جیسے سردیوں کی تعطیلات اور موسمی حالات کی وجہ سے تازہ مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ ہے۔

Caprarulo نے خبردار کیا کہ اگرچہ اگست کا پہلا ہفتہ خوراک اور مشروبات میں استحکام دکھا رہا ہے، "ماہانہ 2 فیصد کی سطح کو توڑنا حکومت کے لیے سب سے بڑا تکنیکی اور سیاسی چیلنج ہے"۔ سال کے آخر تک، پیشن گوئیاں سالانہ افراط زر کو 30 فیصد کے قریب دکھاتی ہیں۔

ماہر معاشیات نے گھریلو مارکیٹ کی کمزوری کے بارے میں بھی خبردار کیا: سپر مارکیٹوں میں کھپت مسلسل گر رہی ہے، اور اگرچہ ای-کامرس ریکارڈ سطح پر پہنچ گیا ہے، ڈیجیٹل چینل اب بھی کل کا 5 فیصد سے بھی کم ہے۔ انہوں نے کہا، "اگر روزگار نہیں بڑھتا، اجرت گرتی ہے اور کریڈٹ کم ہوتا ہے، تو عام کھپت کا بڑھنا مشکل ہے"۔

دوسری سہ ماہی میں سرمایہ کاری بھی گر گئی ہے، جس میں مشینری کی مقامی پیداوار اور درآمدات دونوں شامل ہیں، جو مستقبل کے لیے ایک تشویشناک اشارہ ہے۔ 2027 کے انتخابی سال کے لیے، شرح مبادلہ میں زیادہ اتار چڑھاؤ کی توقع ہے، جو ان عملوں میں عام ڈالرائزیشن کے رجحان کی وجہ سے ہے۔

نوٹ: ارجنٹائن میں مہنگائی کی شرح 2023 میں 211 فیصد تک پہنچ گئی تھی، جو کہ ایک عالمی ریکارڈ ہے۔ موجودہ حکومت اسے کم کرنے کی کوشش کر رہی ہے، لیکن اس چیلنج سے نمٹنا آسان نہیں ہے۔

ماخذ: