اقتصادی امور کے سیکرٹری پابلو کیرنو نے بدھ کے روز ویتنام کے ساتھ تجارتی معاہدے کے لیے باضابطہ مذاکرات کا آغاز کیا، جو ارجنٹائن کی برآمدات کی چھٹی سب سے بڑی منزل ہے۔ یہ مذاکرات جنوبی امریکہ کے بلاک کے لیے ایشیائی منڈیوں تک رسائی کی ایک اہم پیش رفت ہیں۔

میرکوسور26 اگست 2026

جنوبی امریکہ سے جنوب مشرقی ایشیا تک: ایک نئی اقتصادی راہداری

ایک ایسے وقت میں جب عالمی تجارتی تعلقات میں تیزی سے تبدیلیاں آرہی ہیں، ارجنٹائن نے میران کوس اور ویتنام کے درمیان پہلے مرحلے کے تجارتی مذاکرات کی میزبانی کرتے ہوئے ایک اہم تاریخی سنگ میل عبور کیا ہے۔ پابلو کیرنو، جو ارجنٹائن کے سیکرٹری برائے خزانہ ہیں، نے بدھ کو، 26 اگست 2026 کو اپنی سرکاری ٹویٹر پوسٹ میں اس کا اعلان کیا۔ اس موقع پر بونس آئرس میں مختلف ممالک کے نمائندگان جمع ہوئے تھے۔

”ویت نام ہمارے لیے بہت اہم تجارتی شراکت دار بن رہا ہے: یہ ہماری برآمدات کی چھٹی سب سے بڑی منصہ ہے۔“

پابلو کیرنو، سیکرٹری برائے خزانہ

یہ معاہدہ اتنا اہم کیوں ہے؟

یہ مذاکرات اس کے لیے اہم ہیں کیونکہ ویت نام نہ صرف ایک تیزی سے بڑھتی ہوئی معیشت ہے بلکہ اس کی آبادی 100 ملین سے زائد ہے۔ یہ ملک جنوبی چینی سمندر کے کنارے واقع ہے اور اپنی صنعت اور درمیانی طبقے کی بڑھتی ہوئی ضرورتوں کے لیے بڑی مقدار میں خام مال اور غذائی اشیاء جاتا ہے۔ دوسری جانب میورکوس، جو ارجنٹائن، برازیل، پیراگوئے اور یوراگوئے کا ایک اقتصادی بلاک ہے، اپنی برآمدات کو نئی منڈیوں تک پہنچانا چاہتا ہے۔ اس وقت ارجنٹائن کے لیے ویتنام اس کا چھٹا سب سے بڑا برآمدی ہدف ہے، خاص طور پر سوائے کے لیے اس کا بڑا حصہ ذمہ دار ہے۔

ایک اہم تبدیلی یہ ہے کہ یہ معاہدہ صرف ایک سرکاری معاہدہ نہیں، بلکہ اس کے ذریعے کسٹم ڈیوٹی میں کمی ہو سکتی ہے جس سے اشیا کی قیمت کم ہوجائے گی اور تجارتی حجم میں زیادتی ہوگی۔ اس میں سویا، مکی، گائے کا گوشت اور لییکٹوز جیسی مصنوعات پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے۔

یہ کب شروع ہوا؟

اس عمل کا آغاز 2025 میں ہوا جب دونوں طرفوں کی تکنیکی ٹیموں نے سمعلی مذاکرات شروع کیے تھے۔ اس دفعہ یہ پہلی باض ملاقات ہے، اور یہ ارجنٹائن کی صدارت کے دوران ہو رہی ہے۔ اس لیے ارجنٹائن کی اقتصادی ٹیم ہی اس کی میزبانی کر رہی ہے اور وہ اسے ایشی دروازے کے طور پر بھی استعمال کرنا چاہتی ہے۔

اہم مصنوعاتممکنہ فائدے
سویا (سویا بین)وہ طاقت میں کسٹم ڈیوٹی ختم ہونے سے قیمتیں کم ہو کر مزید مسابقت بڑھے گی۔
مکیویتنام کے جانوروں کی خوراک کی صنعت کو براہِ راست فائدہ پہنچے گا۔
گائے کا گوشایشی مارکیٹ میں زیادہ گوشت فروخت کرنے کا موقع ملے گا۔
ڈیری مصنوعاتمزید اعلیٰ معیار کی پروسیس شدہ اشیاء برآمد ہوسکتی ہیں۔

آنے والے دنوں میں کیا متوقع ہے؟

اس پہلے مرحلے کے بعد دونوں فریق تکنیکی راؤنڈز کے لئے تیاری کریں گے، جس میں انتظامی رکاوٹیں (ٹیرف اور اصولی امور)، سرحدی معیارات، اور سہولیات جیسے موضوعات اٹھائے جائیں گے۔ امید کی جارہی ہے کہ کچھ ہی عرصے میں ایک مکمل معاہدے پر دستخط ہوکر ان دو علاقوں کے درمیان تجارتی باہمی تعلنے میں بے پہلے اضافہ ہوگا۔

ارجنٹائن کے اس اقدام کو جنوبی امریکہ کے سیشن میں ایک نمایاں قدم کے طور پر دیکھ رہے ہیں، کیونکہ یہ علاقہ ایشی کی بھاری منڈیوں تک رسائی حاصل کرنے کی راہ میں ایک اہم پیش رفت ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ اگلے چند مہینوں میں کیا تجاویز عملی شکل اختیار کرتی ہیں۔


ماخذ: پابلو کیرنو کا ٹویٹر (ایکس) پوسٹ، 26 اگست 2026۔ معاشی تناظر اسی تاریخ کو اپڈیٹ کیا گیا۔

مزید کے لیے:
ارجینٹائن کی وزارت اقتصادیات | میرکوس کی ویب سائٹ