ایلون مسک کی خلائی کمپنی SpaceX نے اپنے بڑے خلائی جہاز اسٹار شپ کے ایک انجن کی کامیاب آزمائش مکمل کی ہے۔ یہ وہ خلائی جہاز ہے جو اب تک بنایا گیا سب سے بڑا اور طاقتور ہے۔ یہ تجربہ ٹیکساس کے شہر بوکا چیکا میں ہوا۔ یہ اسٹار شپ کی پہلی مداری پرواز سے پہلے ایک اہم قدم ہے۔
اسٹار شپ دو حصوں پر مشتمل ہے: نیچے والا حصہ سپر ہیوی کہلاتا ہے جو راکٹ کو اوپر اٹھاتا ہے، اور اوپر والا حصہ خود اسٹار شپ ہے۔ یہ جہاز مکمل طور پر دوبارہ استعمال ہونے کے قابل ہے اور ایک وقت میں 100 افراد کو خلاء میں لے جا سکتا ہے۔ اس میں ریپٹر نامی انجن لگے ہیں جو مائع میتھین اور آکسیجن سے چلتے ہیں۔
مداری پرواز کی طرف بڑھتا ہوا قدم
یہ آزمائش 24 اگست 2026 کو کی گئی۔ اس میں اسٹار شپ کے اوپری حصے کے ایک ریپٹر انجن کو چند سیکنڈ کے لیے چلایا گیا تاکہ یہ دیکھا جا سکے کہ یہ صحیح طریقے سے کام کرتا ہے یا نہیں۔ اس سے پہلے بھی اسٹار شپ کی کئی آزمائشیں ہو چکی ہیں، جیسے کم اونچائی پر اڑان اور انجنوں کو زمین پر کھڑا کر کے چلانا۔
اب اگلا بڑا چیلنج پہلی مداری پرواز ہے۔ اس میں سپر ہیوی اور اسٹار شپ دونوں کو ایک ساتھ استعمال کیا جائے گا۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ اس پرواز میں جہاز زمین کے مدار میں جائے گا اور پھر بحر الکاہل میں ہوائی کے قریب گرے گا۔
اسٹار شپ کیا ہے؟
اسٹار شپ ایک دو حصوں پر مشتمل خلائی نظام ہے جو لمبی خلائی پروازوں کے لیے بنایا گیا ہے۔ اس کی کل اونچائی 120 میٹر ہے، جو چاند پر انسان بھیجنے والے مشہور راکٹ سیٹرن V سے بھی زیادہ ہے۔ اس کے انجن میتھین اور آکسیجن استعمال کرتے ہیں، جو مریخ پر بنائے جا سکتے ہیں۔
ناسا نے اسٹار شپ کو اپنے آرٹیمس پروگرام کے لیے چاند پر اترنے والی گاڑی کے طور پر منتخب کیا ہے۔ اس پروگرام کے تحت اس دہائی میں خلابازوں کو چاند پر بھیجا جائے گا۔ SpaceX اسے تجارتی مشنوں اور آخر کار مریخ کی نوآبادی بنانے کے لیے بھی استعمال کرنا چاہتی ہے۔
آگے کیا ہوگا؟
اس آزمائش کے بعد SpaceX مزید تجربے کرے گی، جیسے سپر ہیوی کے 33 انجنوں کو ایک ساتھ چلانا۔ اگر سب کچھ ٹھیک رہا تو مداری پرواز اگلے چند مہینوں میں ہو سکتی ہے۔ کمپنی نے کوئی تاریخ نہیں بتائی، لیکن ماہرین کا خیال ہے کہ یہ 2026 کے آخر یا 2027 کے شروع میں ہو سکتی ہے۔
یہ پیش رفت جدید خلائی دوڑ میں ایک اہم سنگ میل ہے۔ اسٹار شپ خلاء تک جانے کے اخراجات کو بہت کم کر سکتی ہے اور اگلی دہائی میں مریخ پر انسان بھیجنے کا راستہ کھول سکتی ہے۔ خلائی شائقین SpaceX کے ہر قدم کو بڑی دلچسپی سے دیکھ رہے ہیں۔