ارجنٹینا کے 15 سالہ طلباء کی تعلیمی کارکردگی میں شدید کمی دیکھی گئی ہے۔ حالیہ PISA 2025 کے نتائج کے مطابق، ریاضی، پڑھنے کی صلاحیت اور سائنس میں طلباء کی کارکردگی گزشتہ دو دہائیوں میں بدترین رہی ہے۔ حکومت نے اس صورتحال کا ذمہ دار پچھلی حکومتوں کی پالیسیوں کو ٹھہرایا ہے، تاہم ماہرین اسے ایک گہرے ڈھانچہ جاتی مسئلے کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔

تعلیمی بحران یا تبدیلی کا وقت؟ ارجنٹینا کے تعلیمی نتائج کا تجزیہ

منظمہ اقتصادی تعاون اور ترقی (OECD) کی تازہ ترین رپورٹ

نوٹ: PISA (پیزا) ایک عالمی پیمانہ ہے جو ہر تین سال بعد 15 سالہ بچوں کی ریاضی، سائنس اور پڑھنے کی صلاحیت کو جانچتا ہے تاکہ دنیا بھر کے تعلیمی نظام کا موازنہ کیا جا سکے۔

منگل 8 ستمبر 2026 کو جاری ہونے والی رپورٹ کے مطابق، ارجنٹینا نے 2006 کے بعد اپنی بدترین کارکردگی ریکارڈ کی ہے۔ یہ نتائج ظاہر کرتے ہیں کہ ملک کے تعلیمی معیار میں نمایاں گراوٹ آئی ہے، جس نے ارجنٹینا کو خطے کے دیگر ممالک کے مقابلے میں پیچھے دھکیل دیا ہے۔

ریاضی: سب سے تشویشناک صورتحال

ریاضی میں 76% طلباء بنیادی سطح (Level 2) تک پہنچنے میں ناکام رہے۔ اس کا مطلب ہے کہ ہر 4 میں سے صرف 1 طالب علم سادہ مسائل حل کرنے کے قابل ہے۔

سائنس اور خواندگی

پڑھنے کی صلاحیت اور سائنس میں تقریباً 60% طلباء بنیادی معیار حاصل نہیں کر سکے۔ صرف 7.8% طلباء وہ تھے جو تینوں مضامین میں کامیابی حاصل کر سکے۔

عالمی اور علاقائی درجہ بندی

سائنس کے میدان میں ارجنٹینا 91 ممالک میں سے 71 ویں نمبر پر رہا۔ لاطینی امریکہ کے 13 ممالک میں ارجنٹینا آٹھویں نمبر پر ہے، جس نے صرف ایل سالوڈور، ڈومینیکن ریپبلک، پیرگوئے اور گوئٹیمالا کو پیچھے چھوڑا ہے۔

ملکصورتحال / نتائج
برازیلمستحکم رہا اور سائنس (409 پوائنٹس) میں بہتری آئی۔
چلیریاضی اور پڑھنے میں گراوٹ، کلاس رومز میں موبائل فون پر پابندی سخت کی۔
میکسیکوریاضی میں گر کر 388 پوائنٹس پر آگیا۔
یورگوئےسائنس میں بہتری، لیکن دیگر دو شعبوں میں کمی۔
پیرگوئے59% طلباء کی غیر حاضری ریکارڈ کی گئی۔

"جلد باز پڑھنے والے" (Hasty Readers) کا رجحان

ماہرین نے ایک نیا رجحان نوٹ کیا ہے جسے "جلد باز پڑھنے والے" کہا گیا ہے۔ یہ وہ طلباء ہیں جو جوابات تو جلدی دیتے ہیں لیکن وہ غلط ہوتے ہیں۔ اس کی بڑی وجہ اسکرینز اور سوشل میڈیا کا بے تحاشا استعمال بتایا جا رہا ہے، جس سے بچوں کی توجہ مرکوز کرنے کی صلاحیت کم ہو گئی ہے۔ ارجنٹینا میں 55% طلباء نے تسلیم کیا کہ وہ سائنس کی کلاسز میں الیکٹرانک آلات کی وجہ سے توجہ نہیں دے پاتے، جبکہ عالمی اوسط صرف 28% ہے۔

حکومتی ردعمل اور سیاسی تنازع

ارجنٹینا کی وزارت انسانی سرمایہ (Ministry of Human Capital) اور وزیر تعلیم کارلوس ٹورینڈیل نے ان نتائج کا ذمہ دار پچھلی کرشنرزم (Kirchnerism) حکومت کی پالیسیوں کو ٹھہرایا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ 2013 سے تعلیمی نظام میں "غلط قسم کی شمولیت" پر زور دیا گیا جس سے معیار گر گیا۔ تاہم، انہوں نے امید जताई کہ حالیہ قومی "Aprender" ٹیسٹ میں بہتری دیکھی گئی ہے، جو بنیادی سیکھنے کے عمل پر توجہ مرکوز کرتے ہیں۔

ڈیٹا کا ذریعہ: Imago News / OECD Report