توماش ناڈولسکی، جو پولینڈ سے تعلق رکھتے ہیں، ایک نایاب جینیاتی بیماری 'فیبری سنڈروم' میں مبتلا ہیں جس نے ان کی نشوونما 12 سال کی عمر میں روک دی۔ وہ روزانہ 20 گھنٹے نس کے ذریعے خوراک لیتے ہیں اور آزادی کا خواب دیکھتے ہیں۔ ان کی کہانی جلد تشخیص کی اہمیت کو اجاگر کرتی ہے۔

ایک خاموش عذاب کا آغاز

توماش کی زندگی اس وقت بدل گئی جب وہ 7 سال کے تھے۔ انہیں ہر کھانے کے بعد قے آنا شروع ہوگئی اور پیٹ، ہاتھوں اور پیروں میں شدید درد ہونے لگا۔ کئی سالوں تک ڈاکٹروں نے ان علامات کو ذہنی مسائل یا اسکول سے بچنے کی کوشش قرار دے کر نظرانداز کیا۔

فیبری سنڈروم کیا ہے؟

فیبری سنڈروم ایک موروثی جینیاتی بیماری ہے جو X کروموسوم سے منسلک ہے۔ یہ دنیا بھر میں تقریباً 40,000 مردوں میں سے 1 کو متاثر کرتی ہے۔ اس بیماری میں جسم میں ایک انزائم کی کمی ہوتی ہے جو گلوبوٹرائوسائل سیرامائڈ نامی چربی کو توڑنے کے لیے ضروری ہے۔ اس انزائم کی کمی کی وجہ سے چربی خلیوں میں جمع ہوتی ہے، خاص طور پر گردوں، دل، جلد اور اعصابی نظام میں، جو وقت کے ساتھ اعضاء کو تباہ کر دیتی ہے۔

وقت میں رکا ہوا جسم

12 سال کی عمر میں توماش کا جسم بڑھنا بند ہوگیا۔ وہ بلوغت کے مراحل سے نہیں گزرے اور نہ ہی نوعمری کی تبدیلیوں کا سامنا کیا۔ اسکول میں ان کا مذاق اڑایا جاتا تھا اور انہیں 'سکیلٹر' (Skeletor) کا طعنہ دیا جاتا تھا کیونکہ وہ بہت کمزور نظر آتے تھے۔

16 سال کی عمر میں ایک نئے ڈاکٹر نے جینیاتی ٹیسٹ کروانے کا فیصلہ کیا، جس سے آخر کار تشخیص ہوئی: فیبری سنڈروم۔ اگرچہ تشخیص نے ذہنی سکون دیا، لیکن تقریباً ایک دہائی تک جسم کو پہنچنے والا نقصان ناقابلِ واپسی تھا۔

میرے جسم کا ہر انچ درد کرتا ہے۔ میں نہ تو سو سکتا ہوں اور نہ ہی عام زندگی گزار سکتا ہوں۔

توماش ناڈولسکی

بھائی کے ساتھ فرق

توماش کی تشخیص کے بعد ان کے بھائی ووجشیخ کا بھی معائنہ کیا گیا اور وہ بھی اس بیماری کا شکار پائے گئے۔ تاہم، چونکہ ان کی تشخیص 9 سال کی عمر میں ہوئی، وہ بروقت علاج شروع کر سکے۔ آج ووجشیخ بغیر کسی سنگین پیچیدگی کے زندگی گزار رہے ہیں اور نایاب بیماریوں کے عالمی کارکن بن چکے ہیں، جو جلد تشخیص کی اہمیت کو ظاہر کرتا ہے۔

امید سے بھری جوانی

آج 33 سال کی عمر میں، توماش کے نظامِ ہاضمہ کو شدید نقصان پہنچ چکا ہے۔ انہیں روزانہ 20 گھنٹے نس کے ذریعے پانی اور غذائیت لینا پڑتی ہے۔ درد پر قابو پانے کے لیے وہ مورفین کے پیچ اور خصوصی آرتھوپیڈک جوتے استعمال کرتے ہیں۔ ان کی بیماری کو روکنے والی دوا کی سالانہ قیمت 200,000 ڈالر سے زیادہ ہے، لیکن وہ ایک کلینیکل ٹرائل میں حصہ لے کر یہ دوا مفت حاصل کرتے ہیں۔

ان تمام مشکلات کے باوجود، توماش میں امید زندہ ہے۔ وہ اپنا اپارٹمنٹ لینے، نوکری حاصل کرنے اور آزاد زندگی گزارنے کا خواب دیکھتے ہیں۔ ان کی کہانی انسانی روح کی طاقت اور نایاب بیماریوں کے بارے میں شعور بیدار کرنے کی ضرورت کو اجاگر کرتی ہے۔

مآخذ: Infobae، Emisoras Unidas اور Contexto Tucumán۔