امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے عالمی سلامتی پر مرکوز اپنے یورپی دورے کا آغاز ریکجاوک سے کیا ہے۔ آرکٹک خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے درمیان، اس دورے کا مقصد گرین لینڈ کے حوالے سے حالیہ معاہدوں کے بعد فوجی اور سفارتی اتحاد کو مضبوط بنانا ہے تاکہ خطے میں امن اور استحکام قائم رہ سکے۔

امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو ریکجاوک، آئس لینڈ پہنچ چکے ہیں، جو کہ عالمی سلامتی پر مرکوز ایک اہم یورپی دورے کا آغاز ہے۔ آئس لینڈ کے دارالحکومت کا انتخاب محض اتفاق نہیں ہے، بلکہ یہ ملک اپنی جغرافیائی اہمیت اور آرکٹک (شمالی قطب کے گرد کا علاقہ) کے ساتھ تعلقات کی وجہ سے ایک کلیدی اسٹریٹجک مرکز بن چکا ہے۔

دورے کے اہم اہداف

شمالی بحر اوقیانوس کے اس جزیرے پر روبیو کے ایجنڈے میں اعلیٰ سطح کی ملاقاتیں اور فوجی ہم آہنگی شامل ہے:

  • وزیراعظم کرسٹ رن فروسٹڈوٹیر اور تھورگیرڈر کترین گنارزڈوٹر کے ساتھ دوطرفہ ملاقاتیں۔
  • امریکی بحریہ کے ارکان کے ساتھ فوجی حکمت عملی طے کرنے کے لیے کیفیلاویک بیس کا سرکاری دورہ۔
اہم پس منظر: یہ سفارتی نقل و حرکت نیویارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے دوران گرین لینڈ (ڈنمارک کا خود مختار علاقہ) کے بارے میں ایک سکیورٹی معاہدے کے دستخط کے صرف دس دن بعد ہوئی ہے۔ اس معاہدے کا مقصد ڈونلڈ ٹرمپ کے گرین لینڈ کے حوالے سے دعووں سے پیدا ہونے والی کشیدگی کو کم کرنا ہے۔

آئس لینڈ کی اہمیت

آئس لینڈ کی خاصیت یہ ہے کہ اس کی اپنی کوئی باقاعدہ فوج نہیں ہے، جس کی وجہ سے وہ اپنی بقا اور دفاع کے لیے دو بنیادی ستونوں پر انحصار کرتا ہے:

سکیورٹی سپورٹ تفصیلات
دوطرفہ معاہدہ 1951 میں امریکہ کے ساتھ کیا گیا دفاعی معاہدہ۔
کثیر الجہتی اتحاد NATO (شمالی اٹلانٹک ٹریٹی آرگنائزیشن) کی فعال رکنیت۔

آئس لینڈ میں اپنی سرگرمیاں مکمل کرنے کے بعد، امریکی وزیر خارجہ ایتھنز، یونان روانہ ہوں گے، جہاں وہ علاقائی سلامتی اور توانائی کے ایجنڈے پر مرکوز ایک اسٹریٹجک مذاکرے میں شرکت کریں گے۔


ماخذ: IMAGO