ارجنٹائن کی تین بڑی مزدور یونینوں (CGT، CTA اور CTA Autónoma) نے UTEP اور سماجی تحریکوں کے ساتھ مل کر جمعرات کو وزارت اقتصادیات کے سامنے خاندانی قرضوں کے بحران کے خلاف مارچ کیا۔ مرکزی بینک کے اعداد و شمار کے مطابق صرف دو سالوں میں قرضوں کی عدم ادائیگی کی شرح پانچ گنا بڑھ گئی ہے، جبکہ حکومت نے مداخلت سے انکار کر دیا ہے۔

📍 فوری معلومات: یہ احتجاج 20 اگست 2026 کو ہوا، جس میں مزدور یونینوں نے حکومتی پالیسیوں کے خلاف آواز اٹھائی۔

ایک تاریخی احتجاج

ارجنٹائن کی سب سے بڑی مزدور یونین Confederación General del Trabajo (CGT)، UTEP اور دو CTA (CTA de los Trabajadores اور CTA Autónoma) نے جمعرات 20 اگست 2026 کو وزارت اقتصادیات کے سامنے ایک غیر معمولی مارچ کیا۔ اس کا مقصد خاندانوں پر بڑھتے ہوئے قرضوں کے بحران کو اجاگر کرنا تھا، جو لاکھوں ارجنٹائنیوں کو متاثر کر رہا ہے۔

یہ مارچ دوپہر 2:00 بجے شروع ہوا، جس کے دو اہم اجتماع پوائنٹس تھے: Paseo Colón اور Estados Unidos کا کونا اور Independencia اور Paseo Colón ایونیو کا سنگم۔ وہاں سے، شرکاء کا قافلہ وزارت اقتصادیات کی عمارت (Hipólito Yrigoyen 250) کی طرف بڑھا، جس کی وجہ سے صبح سے ہی علاقے میں ٹریفک شدید متاثر رہی۔

⚠️ تشویشناک اعداد و شمار

  • 📊 12.7%: گھریلو قرضوں میں ڈیفالٹ کی شرح (جون 2026، مرکزی بینک)
  • 📈 2.5%: اکتوبر 2024 میں یہ شرح تھی
  • 👥 5.8 ملین افراد 90 دن سے زائد قسطوں میں پیچھے ہیں
  • 🏦 33%: فینٹیک اور ڈیجیٹل والٹس میں ڈیفالٹ
  • 💸 20 ملین مقروض افراد، CGT کے مطابق

بحران کی اصل وجوہات

ارجنٹائن کے مرکزی بینک (BCRA) کے مطابق، گھریلو قرضوں میں عدم ادائیگی کی شرح جون 2026 میں 12.7% تک پہنچ گئی، جو اکتوبر 2024 میں صرف 2.5% تھی۔ اس کا مطلب ہے کہ دو سالوں میں یہ شرح پانچ گنا بڑھ گئی ہے۔

CEPA کی رپورٹ کے مطابق، بینکاری قرضوں میں ڈیفالٹ نومبر 2024 سے اپریل 2026 کے درمیان 2.5% سے بڑھ کر 12.1% ہو گیا، جبکہ ڈیجیٹل والٹس میں یہ شرح 7.3% سے بڑھ کر 29.6% ہو گئی۔

Defensoría del Pueblo bonaerense (صوبہ بیونس آئرس کے عوامی محافظ) نے بھی سخت اعداد و شمار پیش کیے: فینٹیک اور ڈیجیٹل والٹس میں ڈیفالٹ کی شرح 33% ہے، اور 56.6% گھرانے نے پچھلے سال میں کوئی نہ کوئی قرض لیا ہے؛ ان میں سے 73.5% اب بھی قرضوں میں ڈوبے ہوئے ہیں۔

Management & Fit کے سروے سے پتہ چلا ہے کہ 50% سے زیادہ ارجنٹائنی گھرانوں کو آمدنی میں مشکلات کا سامنا ہے، اور ان میں سے اکثر مہینے کا اختتام نہیں کر پاتے۔ ان گھرانوں میں، 71.9% لوگ رسمی یا غیر رسمی طور پر قرض لینے پر مجبور ہیں۔ یہاں تک کہ Fundación Pensar (جو PRO پارٹی کا تھنک ٹینک ہے) نے بھی تسلیم کیا کہ خاندان پائیدار اشیاء خریدنے کے لیے قرض نہیں لے رہے، بلکہ کھانے پینے، ادویات اور بنیادی خدمات جیسی روزمرہ کی ضروریات پوری کرنے کے لیے قرض لے رہے ہیں۔

مزدور رہنماؤں کا مؤقف

بدھ کو CGT کے ہیڈکوارٹر (Azopardo 802) میں ہونے والی مشترکہ پریس کانفرنس میں، CGT کے شریک سربراہ کرسٹیان جیرونیمو نے کہا: “یہ سیاسی اور معاشی ماڈل ہمیں غربت کی طرف لے جا رہا ہے، اور اس حکومت کی بے حسی ہمارے لوگوں کے لیے انتہائی تکلیف دہ ہے۔” انہوں نے بتایا کہ ارجنٹائن میں 20 ملین مقروض افراد ہیں، جن میں سے 6 ملین سنگین صورتحال سے گزر رہے ہیں، اور 60% “Veraz کی قسم 4” میں داخل ہونے والے ہیں، جس کا مطلب ہے کہ وہ مالیاتی نظام سے عملی طور پر خارج ہو جائیں گے۔

جیرونیمو نے زور دیا کہ یہ مسئلہ صرف بے روزگاروں کا نہیں ہے، بلکہ ملازمت پیشہ افراد بھی مہینے کے 15 تاریخ تک ہی پیسے ختم کر دیتے ہیں۔ روبرتو بارادل (CTA de los Trabajadores) نے کہا کہ یہ بحران “چھوٹے اور درمیانے کاروباریوں، خاندانوں، کارکنوں اور متوسط طبقے” کو متاثر کر رہا ہے۔

UTEP کی نائب سیکرٹری نورما مورالس نے کہا: “یہ قرض انفرادی نہیں، اجتماعی ہے۔ ایک مقروض قوم حکومتی پالیسیوں کا نتیجہ ہے، جو طاقتوروں کا دفاع کرتی ہیں جو کبھی نہیں ہارتے۔”

حکومت کا ردعمل

یہ احتجاج حکومتی مؤقف کے خلاف بھی ہے۔ صدر خاویر میلی نے 2 اگست کو مقروضین کو ریاستی امداد دینے سے انکار کرتے ہوئے کہا تھا: “کیا کسی نے ان کے سر پر بندوق رکھی تھی؟ نہیں۔ تو یہ کہنا کہ ریاست اسے حل کرے، باقی سب پر بوجھ ڈالنا ہے۔” اگلے دن ریڈیو میٹرے پر انہوں نے اسے “ایک نجی معاملہ” قرار دیا۔

وزیر اقتصادیات لوئس کاپوٹو نے بھی قرطبہ کے اسٹاک ایکسچینج میں کہا کہ یہ “نجی معاملہ” ہے۔ صدارتی ترجمان ایڈریان راویر نے 11 اگست کو مزید کہا: “یہاں کوئی حکومتی رقم نہیں ہے جو مقروضین کو دی جائے۔”

صوبہ بیونس آئرس کے گورنر ایکسل کیسیلوف نے جواب میں ایک رپورٹ جاری کی جس کا عنوان تھا “قصور میلی کا ہے”۔ ان کے وزیر حکومت کارلوس بیانکو نے کہا کہ خاندانی قرضوں کی عدم ادائیگی دو سالوں میں پانچ گنا بڑھ گئی ہے۔ کیسیلوف نے کہا: “لوگ اس لیے قرض لے رہے ہیں کیونکہ تنخواہیں بنیادی ضروریات پوری کرنے کے لیے کافی نہیں ہیں۔”

کانگریس میں قانونی تجاویز

یہ بحران کانگریس تک بھی پہنچا ہے، جہاں حزب اختلاف نے تقریباً 30 بل پیش کیے ہیں۔ ایک تجویز، جو ڈپٹی ڈیاگو جولیانو اور کارین ٹیپ نے پیش کی ہے، میں خاندانوں کے لیے ایک قرض سے نجات پروگرام بنانے کی بات کی گئی ہے۔ اس کے تحت ANSES کے ذریعے کارکنان، ریٹائرڈ افراد اور کم آمدنی والے مونوٹریبٹس کو 1.5 ملین پیسو تک کے قرضے دیے جائیں گے، جس کی شرح سود بینک نیشن کی فعال شرح سے 10 پوائنٹس زیادہ ہوگی، اور اقساط آمدنی کے 30% سے زیادہ نہیں ہوں گی۔

ایک اور تجویز میں کم از کم 40% جرمانہ سود معاف کرنے اور 60 ماہ تک کی آسان اقساط کی تجویز دی گئی ہے۔ اس کے علاوہ، قومی رجسٹر بنانے کی بھی تجویز ہے جو ضروری اخراجات کی وجہ سے مقروض افراد کو ریکارڈ کرے۔ سینیٹ میں بھی ایک بل پیش کیا گیا ہے جس میں سود میں کمی اور 60 ماہ تک کی اقساط کی تجویز ہے۔

مستقبل کا لائحہ عمل

آج کا مارچ ایک وسیع تر لائحہ عمل کا حصہ ہے۔ اس احتجاج کے بعد، UTEP نے مزید مظاہروں کا اعلان کیا ہے، جن میں کونسل آف منیمم ویج کا اجلاس، چرچ کا سماجی ہفتہ، 2 ستمبر کو یوم صنعت کے موقع پر مظاہرہ، اور پوپ لیو XIV کے نومبر میں ارجنٹائن کے دورے سے منسلک سرگرمیاں شامل ہیں، جن میں CGT کے ساتھ مل کر لوجان میں ایک خصوصی عبادت بھی منعقد کی جائے گی۔

📚 سیاق و سباق: ارجنٹائن کا معاشی بحران

ارجنٹائن لاطینی امریکہ کی دوسری بڑی معیشت ہے، لیکن گزشتہ برسوں سے اسے شدید معاشی مشکلات کا سامنا ہے۔ صدر میلی کی لبرل اقتصادی پالیسیوں کے نتیجے میں مہنگائی بڑھی ہے اور لوگوں کی قوت خرید کم ہوئی ہے۔ بہت سے خاندان اپنی بنیادی ضروریات پوری کرنے کے لیے کریڈٹ کارڈز یا ڈیجیٹل والٹس سے قرض لینے پر مجبور ہیں، جس کی وجہ سے قرضوں کا یہ بڑا بحران پیدا ہوا ہے۔