ٹیکنالوجی اور قانون کی جنگ: AI بمقابلہ انسان
مصنوعی ذہانت (AI) اب صرف چیٹ کرنے یا تصاویر بنانے تک محدود نہیں رہی، بلکہ یہ میڈیکل کی دنیا میں انقلاب لا رہی ہے۔ لیکن اس ترقی کے ساتھ ایک بڑا قانونی سوال پیدا ہو گیا ہے۔
حال ہی میں انسیلیکو میڈیسن (Insilico Medicine) نامی کمپنی نے اپنے AI پلیٹ فارم کا استعمال کرتے ہوئے پھیپھڑوں کے فائبروسس (Pulmonary Fibrosis) کے علاج کے لیے ایک امید افزا مالیکیول دریافت کیا۔ اب مسئلہ یہ ہے کہ اس ایجاد کا اصل خالق کون ہے؟
کمپنی نے اپنی پریس ریلیز میں تو یہ تسلیم کیا کہ یہ دوا AI نے دریافت کی، لیکن جب قانونی کاغذات جمع کرائے گئے تو AI کا ذکر نہیں کیا گیا، بلکہ اس کے CEO الیکس ژاوورونکوف (Alex Zhavoronkov) سمیت پانچ انسانوں کو موجد (Inventors) کے طور پر درج کیا گیا۔
امریکی قانون کیا کہتا ہے؟
امریکہ کی عدالتوں کا موقف بہت واضح ہے۔ موجودہ قوانین کے مطابق، ایک موجد کا 'انسان' ہونا ضروری ہے۔
- 2022 میں واشنگٹن ڈی سی کی ایک عدالت نے DABUS نامی AI کی درخواست مسترد کر دی تھی، جس میں اسے ایک کنٹینر کی ایجاد کا مالک بنانے کی کوشش کی گئی تھی۔
- عدالت نے فیصلہ سنایا کہ مشینیں قانونی طور پر موجد نہیں ہو سکتیں۔
امریکہ کا پیٹنٹ آفس (USPTO) فی الحال AI کو ایک کیلکولیٹر کی طرح محض ایک اوزار سمجھتا ہے، اس لیے اسے موجد کے طور پر لکھنا ضروری نہیں سمجھا جاتا۔
بڑے خطرات اور اثرات
قانونی ماہر رایان ایبٹ (Ryan Abbott) کے مطابق، اگر کسی ایسی ایجاد کا پیٹنٹ غلط طریقے سے انسانوں کے نام کیا گیا ہے جسے مکمل طور پر AI نے بنایا ہے، تو مستقبل میں وہ پیٹنٹ منسوخ کیا جا سکتا ہے۔
اگر ایسا ہوا تو کمپنیوں کے لیے اپنی تحقیق پر پیسہ لگانا مشکل ہو جائے گا کیونکہ ان کی ایجادات کو قانونی تحفظ نہیں ملے گا۔ اسی طرح امریکہ کا کاپی رائٹ آفس بھی AI سے تیار کردہ تحریروں اور تصاویر کو قانونی تحفظ دینے سے انکار کر رہا ہے۔
انڈسٹری کا دفاع
کمپنیاں جیسے انسیلیکو میڈیسن یہ دلیل دیتی ہیں کہ اگرچہ AI نے ڈیزائن تجویز کیا، لیکن انسانوں نے دوا کو تیار کرنے، اس کی تبدیلیاں کرنے اور جانوروں پر تجربات کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔ اس لیے انسانی نام درج کرنا درست ہے۔
— سیکٹر کے ایک تجزیہ کار
ایک عالمی بحث
یہ صرف ایک کمپنی کا مسئلہ نہیں بلکہ ایک عالمی بحث ہے۔ برطانیہ جیسے ممالک میں قوانین کو لچکدار بنانے پر غور کیا جا رہا ہے، جبکہ امریکہ سخت موقف رکھتا ہے۔ اگر AI کی ایجادات کو تحفظ نہیں ملا، تو شاید ہم ایسی ادویات سے محروم رہ جائیں جو لاکھوں جانیں بچا سکتی ہیں۔
مآخذ: MIT Technology Review