مسوری میں انتخابی بحران: کیا نومبر کے انتخابات خطرے میں ہیں؟
امریکہ کے عدالتی نظام اور انتخابی حکمت عملی کے درمیان ایک پیچیدہ جنگ
ریاست مسوری کا انتخابی نظام اس وقت ایک قانونی تعطل کا شکار ہے۔ امریکی سپریم کورٹ کے جج بریٹ کاوانو (Brett Kavanaugh) نے ریاستی حکام کی اس ہنگامی درخواست کو مسترد کر دیا ہے جس میں 3 نومبر 2026 کے وسط مدتی انتخابات (Midterm Elections) کے لیے نئے کانگریسی حلقوں کے نقشے نافذ کرنے کی استدعا کی گئی تھی۔
یہ فیصلہ ریاست کو کسی بھی واضح انتخابی نقشے کے بغیر چھوڑ دیتا ہے، کیونکہ مسوری کے ایک فیڈرل جج نے پہلے ہی پرانے نقشوں کے استعمال پر عارضی پابندی لگا رکھی ہے۔ اس دوہری عدالتی رکاوٹ نے انتظامی اور سیاسی افراتفری پیدا کر دی ہے۔
وسط مدتی انتخابات کیا ہوتے ہیں؟ امریکہ میں ہر چار سال بعد صدر کے دورانیے کے درمیان ہونے والے انتخابات، جن میں کانگریس (پارلیمنٹ) کی نشستوں کے لیے مقابلہ ہوتا ہے اور یہ حکومت کی پالیسیوں پر اثر انداز ہوتے ہیں۔
پانچویں ضلع کی جنگ اور 'گیری مینڈرنگ'
اس تمام تنازع کا مرکز پانچواں انتخابی ضلع ہے، جس کی نمائندگی اس وقت ڈیموکریٹک پارٹی کے ایمانوئل کلیور (Emanuel Cleaver) کر رہے ہیں۔ سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی حمایت سے تیار کردہ ریپبلکن تجویز کا مقصد اس ضلع کو تقسیم کرنا تھا تاکہ کانساس سٹی کے ووٹوں کو ریپبلکن کے زیر اثر علاقوں میں بانٹ دیا جائے اور دیہی علاقوں کے قدامت پسند ووٹوں کو شامل کیا جائے۔
اہم اصطلاح: گیری مینڈرنگ (Gerrymandering) کیا ہے؟
یہ ایک ایسی سیاسی چال ہے جس میں انتخابی حلقوں کی حدود کو اس طرح بدلا جاتا ہے کہ کسی ایک خاص پارٹی کو فائدہ پہنچے اور مخالف پارٹی کے ووٹ کمزور ہو جائیں۔ یہ اصطلاح 1812 میں میساچوسٹس کے گورنر ایلبرج گیری کے نام سے نکلی ہے جنہوں نے ایک ضلع کو عجیب و غریب شکل (سلا منڈر) میں بنایا تھا۔
عدالتی کشمکش اور مستقبل
مسوری کی سپریم کورٹ نے پہلے یہ حکم دیا تھا کہ نئے نقشے کو عوامی ووٹنگ کے ذریعے منظور کیا جانا چاہیے، جس کی وجہ سے نومبر کے انتخابات تک اسے نافذ کرنا ناممکن ہو گیا۔ فیڈرل جج کا موقف ہے کہ پرانے نقشے استعمال کرنا نمائندگی کی برابری کے اصول کے خلاف ہوگا، جبکہ ریاستی حکام کا کہنا ہے کہ نقشے کے بغیر انتخابات غیر آئینی ہو سکتے ہیں۔
| فریق | موقف / عمل | مقصد |
|---|---|---|
| ریپبلکن پارٹی | نئے نقشے کی حمایت | انتخابی فائدہ حاصل کرنا |
| ڈیموکریٹک پارٹی | عدالتی فیصلے کا خیرمقدم | انتخابی شفافیت برقرار رکھنا |
| سپریم کورٹ (وفاقی) | ہنگامی درخواست مسترد | قانونی طریقہ کار کی پیروی |
سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق، جج کاوانو (جو کہ ایک قدامت پسند جج مانے جاتے ہیں) کا یہ فیصلہ حیران کن ہے، لیکن شاید انہوں نے اسے 'ہنگامی حالت' کے معیار پر پورا نہ پایا ہو۔ اب تمام نظریں فیڈرل حکام پر ہیں کہ وہ بیلٹ پرنٹ کرنے کی آخری تاریخ سے پہلے کوئی حل نکالیں تاکہ ووٹرز کو کسی قسم کی الجھن کا سامنا نہ کرنا پڑے۔
ماخذ: The Guardian