آسٹریلیا میں ایک چونکا دینے والا واقعہ پیش آیا ہے جہاں 31 سالہ ڈینیئل بیلنگز نے اپنی سابقہ گرل فرینڈ 28 سالہ مولی ٹائسہرسٹ کو 21 اپریل 2024 کو 15 چاقو کے وار کر کے قتل کر دیا۔ قتل کے بعد اس نے ٹنڈر ایپ پر ملی ایک عورت کو فون کر کے جرم کا اعتراف کیا۔ یہ کیس آسٹریلیا میں خواتین کے خلاف تشدد اور عدالتی نظام پر بحث کو ہوا دے رہا ہے۔

آسٹریلیا کی ریاست نیو ساؤتھ ویلز کے قصبے فوربس میں ایک دل دہلا دینے والا واقعہ پیش آیا ہے۔ ڈینیئل بیلنگز، جو پہلے کان کنی کا کارکن تھا اور 31 سال کا ہے، نے اپنی سابقہ گرل فرینڈ مولی ٹائسہرسٹ (28 سال) کو 21 اپریل 2024 کو قتل کر دیا۔ یہ واقعہ اس وقت سامنے آیا جب اورنج شہر میں سزا سنانے کی سماعت ہوئی، جس میں قتل کے خوفناک تفصیلات سامنے آئیں۔

قتل کی رات

21 اپریل کی رات تقریباً 12 بجے سے کچھ پہلے، بیلنگز نے ٹائسہرسٹ کو اس کے گھر میں چاقو کے وار کیے۔ پوسٹ مارٹم رپورٹ کے مطابق، مولی کو 15 چاقو کے وار لگے۔ حملے کے بعد، بیلنگز خون سے لت پت کپڑوں میں ایک مشترکہ دوست کی جائیداد پر پہنچا۔

صبح 2:02 بجے (22 اپریل) کو بیلنگز نے ایک عورت کو فون کیا جس سے وہ 2022 میں ڈیٹنگ ایپ ٹنڈر پر ملا تھا۔ اس فون کال میں اس نے کہا: “معاف کرو، میں نے اسے قتل کر دیا” اور مزید کہا: “اس نے چیخنا شروع کر دیا اور میں نے وہی کیا جو میں نے کیا”۔ اس دوست نے جس کے پاس وہ ٹھہرا تھا، پولیس کو اطلاع دی، جس نے اسے فوراً گرفتار کر لیا۔

تشدد اور جنون کی تاریخ

بیلنگز اس وقت ضمانت پر رہا تھا جب اس پر ٹائسہرسٹ کے خلاف جنسی زیادتی اور گھریلو تشدد کے الزامات تھے۔ مولی نے اس پر بار بار ریپ کرنے کا الزام لگایا تھا۔ بیلنگز نے ان الزامات کی تردید کی اور اپنا نام صاف کرنے کا جنون پال لیا، جیسا کہ عدالت میں گواہی دی گئی۔

اس کیس نے آسٹریلیا میں ضمانت کے نظام کی تاثیر پر سوال اٹھائے ہیں، کیونکہ بیلنگز سنگین الزامات کے باوجود آزاد تھا۔

الوداعی ویڈیوز اور ذہنی صحت

اس کیس کا سب سے پریشان کن پہلو 90 منٹ کی ویڈیوز ہیں جو بیلنگز نے قتل سے پہلے اور بعد میں ریکارڈ کیں۔ ان ویڈیوز میں وہ خود کو ایک بے گناہ ظاہر کرتا ہے اور کہتا ہے: “میں یقین نہیں کر سکتا کہ میں نے یہ کیا” اور “مجھے نہیں معلوم کہ اس نے مجھ پر ریپ کا الزام کیوں لگایا”۔ ویڈیوز سے پتہ چلتا ہے کہ وہ قتل کے بعد خودکشی کرنے کا منصوبہ بنا رہا تھا۔

دفاع کی طرف سے تعینات فرانزک ماہر نفسیات اولاو نیلسن نے ان ویڈیوز کو “الوداعی ویڈیوز” قرار دیا اور دلیل دی کہ بیلنگز ڈپریشن کا شکار تھا۔ تاہم، استغاثہ کے پروفیسر ڈیوڈ گرین برگ نے کہا کہ خودکشی کی دھمکیوں کو ٹائسہرسٹ کے خلاف مہینوں کے گھریلو تشدد کے تناظر میں دیکھا جانا چاہیے۔

اعتراف جرم اور سزا

بیلنگز نے نومبر 2025 میں قتل کا اعتراف کیا، اور جنسی زیادتی کے الزامات واپس لے لیے گئے۔ اورنج میں دو روزہ سماعت مکمل ہوئی، اور جج نٹالی ایڈمز ستمبر کے آخر میں سزا سنائے گی۔

مولی کے والد، ٹونی ٹائسہرسٹ، نے عدالت میں کہا: “جب وہ مر گئی، میرا ایک حصہ بھی مر گیا”۔ فوربس کی کمیونٹی اور خاندان کو امید ہے کہ انصاف کی مثال قائم ہوگی۔

کیس کے اہم حقائق

  • متاثرہ: مولی ٹائسہرسٹ، 28 سال
  • ملزم: ڈینیئل بیلنگز، 31 سال
  • قتل کی تاریخ: 21 اپریل 2024
  • طریقہ: چاقو کے وار (15 وار)
  • اعتراف: ٹنڈر پر ملی عورت کو فون، 22 اپریل 2024 صبح 2:02 بجے
  • اعتراف جرم: نومبر 2025
  • سزا: ستمبر 2026 کے آخر میں متوقع

یہ کیس آسٹریلیا میں خواتین کے خلاف تشدد اور عدالتی نظام میں اصلاحات کی ضرورت پر ایک وسیع بحث کا باعث بنا ہے۔ یہ سزا ملک میں خواتین کے قتل کے خلاف جنگ میں ایک سنگ میل ثابت ہوگی۔