اجنبی کے لیے پس منظر: ارجنٹائن اور فیمیسائڈ
ارجنٹائن کے دارالحکومت بیونس آئرس میں واقع ویلا ڈیوووٹو ایک مشہور رہائشی علاقہ ہے۔ اس شہر میں خواتین کو ان کی جنس کی بنیاد پر قتل کرنے کے واقعات کو فیمیسائڈ (Femicidio) کہا جاتا ہے، جو ایک سنگین جرم ہے۔ ذرائع کے مطابق، ارجنٹائن میں ہر 35 گھنٹے میں ایک فیمیسائڈ رونما ہوتا ہے، جو معاشرے کے لیے ایک بڑی تشویش ہے۔
وہ المیہ جس نے ویلا ڈیوووٹو کو ہلا کر رکھ دیا
ذرائع کے مطابق، بدھ 13 اگست 2026 کو، رومینا ماریا دے لاس اینجلس کالوو (40 سال) کو ان کے ساتھی والٹر ہمبرٹو ویران (56 سال) نے قصابی چاقو سے 40 سے زائد وار کر کے قتل کر دیا۔ یہ واقعہ پیڈرو موران 5200، ویلا ڈیوووٹو میں ان کے گھر پر پیش آیا۔ قاتل نے قتل کے بعد اپنی گردن کاٹ کر خودکشی کی کوشش کی اور وہ ہسپتال ویلیز سارسفیلڈ میں انتہائی نازک حالت میں داخل ہے۔
ایک دن بعد، ان کے بڑے بیٹے جوان سیباسٹین ویران (23 سال) نے ٹی وی پروگرام دیاریو دے ماریانا (امریکا ٹی وی) کو انٹرویو دیتے ہوئے بتایا کہ انہیں ان کے 21 سالہ بھائی نے فون کیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ فون پر انہوں نے اپنی 8 سالہ بہن کو یہ دردناک واقعہ بیان کرتے سنی۔ بچی نے اپنی ماں پر حملے کا مشاہدہ کیا تھا اور مدد کے لیے دوڑی تھی۔ جوان نے تصدیق کی کہ ان کے والد کی حالت نازک ہے اور ڈاکٹروں کے مطابق وہ زیادہ دن زندہ نہیں رہ سکتے۔
قاتل کا خط اور پٹی کا کردار
اس کیس میں سب سے زیادہ تنازعہ اس خط پر ہے جو ویران نے جرم کی جگہ چھوڑا تھا۔ اس خط میں انہوں نے اپنی جوڑے کے مسائل کے لیے مشہور نمبرولوجسٹ پٹی (ویرانیکا اسد) کو ذمہ دار ٹھہرایا تھا۔ (نمبرولوجسٹ وہ شخص ہوتا ہے جو عددوں سے مستقبل کی پیش گوئی کرتا ہے)۔ جرم کی جگہ سے ایک مقدس چبترہ، موم بتیاں اور بائبل پر ایک نوٹ بھی ملا جس میں لا تابلادا میں ایک جائیداد کی فروخت کا ذکر تھا۔
جوان نے پٹی کا سختی سے دفاع کیا: لوگ جو کہہ رہے ہیں کہ میری ماں نے اسے پیسے دیے، یہ بالکل غلط ہے۔ پٹی نے ہم سے کبھی پیسے نہیں لیے۔ دراصل، وہ ہمیں ویلا ڈیوووٹو میں دکان کھولنے کا موقع دے رہی تھیں۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ وہ چبترا پٹی کے لیے نہیں بلکہ ایک دیوی یمایا کے لیے تھا۔
والدین کے تعلقات اور معاشی مشکلات
نوجوان نے بتایا کہ وہ اپنے والدین کے درمیان تناؤ سے واقف تھے، لیکن انہوں نے پہلے کسی جسمانی تشدد کے واقعے کی تردید کی۔ انہوں نے کہا: میرے خیال میں انہیں کافی پہلے اپنے تعلقات ختم کر لینے چاہئیں تھے۔ یہ پہلی بار تھا کہ اتنا سنگین واقعہ پیش آیا۔ میری ماں کو نہ تو مارتا تھا اور نہ ہی ہم تینوں بچوں کو۔
ذرائع کے مطابق، آخری جھگڑا معاشی مسائل پر تھا۔ جوان نے خط کی تعبیر بتاتے ہوئے کہا کہ اسے غلط سمجھا گیا ہے۔ یہ اس بات کے بارے میں ہے کہ ہم سب مل کر زندگی گزارنے کی کوشش کر رہے تھے۔ کار، بل، کریڈٹ کارڈ سب کچھ ادا کرنا تھا۔ اس خط کی تعبیر یہ ہے کہ ایک آدمی اپنی حد تک پہنچ گیا کیونکہ اس ملک میں آگے بڑھنا بہت مشکل ہے۔
پٹی کا پیغام اور عوامی آگہی
اس تنازعے کے درمیان، پٹی نے اپنے سوشل میڈیا پر رومینا کو یاد کیا، جنہیں انہوں نے ایک محنتی، باکردار اور محبت کرنے والی خاتون قرار دیا۔ انہوں نے ایک امید افزا اور خبردار کرنے والا پیغام دیا: اگر تمہیں خطرہ ہے تو مدد مانگو۔ اگر وہ تمہیں کنٹرول کرتا ہے تو یہ محبت نہیں ہے۔ اگر وہ تمہیں دھمکاتا ہے، ذلیل کرتا ہے یا الگ تھلگ کرتا ہے تو یہ محبت نہیں ہے۔ انہوں نے سب کو مشورہ دیا کہ وہ اس المیے سے نظر نہ پھیریں کہ ایک عورت کو اس کی بیٹی کے سامنے قتل کیا گیا۔
عدالتی تحقیقات
یہ کیس لوماس دے زامورا کی وفاقی عدالت نمبر 2 کے سپرد کیا گیا ہے، جہاں جج جوان توماس روڈریگز پونٹے ذمہ داری سنبھال رہے ہیں۔ پوسٹ مارٹم رپورٹ نے متعدد زخموں کی تصدیق کی ہے۔ 8 سالہ بیٹی اور 21 سالہ بیٹے نے پولیس کو واقعے سے آگاہ کیا تھا۔ یہ واقعہ نہ صرف محلے کے لیے ایک صدمہ ہے بلکہ ارجنٹائن میں صنفی تشدد کے خلاف آگاہی کا سبب بنا ہے۔ امید ہے کہ ان تحقیقات سے انصاف ہو گا اور مستقبل میں ایسے واقعات کو روکنے کے لیے معاشرے میں بیداری پیدا ہو گی۔