کیف کی صورتحال اب شدید تناؤ سے نکل کر ہنگامی حالت میں بدل چکی ہے۔ ایک مربوط حملے میں، روس نے یوکرین کے دارالحکومت کے اہم مراکز کو نشانہ بنایا ہے، جس میں ڈیٹا سینٹرز، دفاتر، ایک اسکول اور ایک ہسپتال شامل ہیں۔ سب سے حساس حملوں میں سے ایک پیوڈننی پل (Pivdennyi Bridge) پر ہوا، جو دریائے ڈنیپرو پر واقع ایک اہم ترین شاہراہ ہے۔
شہر کے میئر، وائٹالی کلیچکو نے واضح کیا کہ صورتحال انتہائی سنگین ہے اور اب یہ دکھاوا کرنا ناممکن ہے کہ یہ امن کا دور ہے۔ دوسری طرف، صدر ولودیمیر زیلنسکی نے الزام لگایا کہ ولادیمیر پوٹن نے جنگ کے قواعد کو نظر انداز کرنے کا حکم دیا ہے تاکہ ریاست کے ڈھانچے کو کمزور کیا جا سکے اور دارالحکومت کو خالی کرایا جا سکے۔
فوجی صورتحال اور علاقائی تبدیلیاں
| فریق | ایکشن / نتیجہ | علاقہ (ستمبر) |
|---|---|---|
| روس | علاقائی پیش قدمی | +361 مربع کلومیٹر پر قبضہ |
| یوکرین | "ویوالڈی" جوابی حملہ | +126 مربع کلومیٹر کی بازیابی |
توانائی کا محاذ اب سب سے بڑی ترجیح بن چکا ہے۔ وزیر توانائی، ڈینیس شمیہال نے یورپ کو ایک آنے والے خطرے سے خبردار کیا ہے: ایسی معلومات ملی ہیں کہ بجلی کے نیٹ ورک پر 1,000 میزائلوں، ڈرونز اور بموں کے حملوں کا منصوبہ ہے۔ اس کا واضح مقصد ملک کو اندھیرے اور سردی میں دھکیل کر انسانی بحران پیدا کرنا ہے۔
عالمی ردعمل اور چیلنجز
- شدید قلت: یوکرین کو پیٹریاٹ (Patriot) انٹرسیپٹرز کی شدید کمی کا سامنا ہے۔
- جدت: اپنے مقامی انٹرسیپٹر ڈرونز کی فوری تیاری کی جا رہی ہے۔
- انخلاء کا منصوبہ: مغربی سفارت کار سفارت خانوں کو لویو (Lviv) یا پولینڈ کے مشرقی حصوں میں منتقل کرنے پر غور کر رہے ہیں۔
ذرائع: IMAGO