سمندری تہہ سے لے کر ڈیجیٹل سرورز تک، یورپی یونین ایک ایسی ہائبرڈ جنگ کا سامنا کر رہی ہے جس کی پہلے کوئی مثال نہیں ملتی۔ روس کی نئی حکمت عملی میں تخریب کاری، سائبر حملے اور آگ لگانے جیسے واقعات شامل ہیں تاکہ براعظم کو عدم استحکام کا شکار کیا جا سکے، جس کا معاشی بوجھ براہ راست یورپی کمپنیوں پر پڑ رہا ہے۔

غیر مرئی جنگ: 'گرے زون' کیا ہے؟

روس اور یورپی یونین کے درمیان تناؤ اب ایک ایسی جہت میں داخل ہو چکا ہے جو نظر تو نہیں آتا لیکن انتہائی تباہ کن ہے۔ برسلز کے ماہرین 'گرے زون وارفیئر' (Grey Zone Warfare) کے بارے میں خبردار کر رہے ہیں۔

وضاحت: 'گرے زون وارفیئر' سے مراد ایسی حکمت عملی ہے جس میں ایک ملک دوسرے ملک کے خلاف ایسی کارروائیاں کرتا ہے جو کھلی جنگ (Conventional War) سے کم شدت کی ہوتی ہیں، لیکن ان کا مقصد دشمن کو کمزور کرنا ہوتا ہے۔ اس میں جاسوسی، سائبر حملے اور تخریب کاری شامل ہوتی ہے تاکہ حملہ کرنے والا براہ راست ذمہ داری قبول کرنے سے بچ سکے۔

اصل مقصد کیا ہے؟

اس strategy کا واضح مقصد افراتفری پھیلانا، عدم استحکام پیدا کرنا اور یورپ کے اہم ترین بنیادی ڈھانچے (Critical Infrastructure) پر حملہ کر کے بڑے مالی نقصانات پہنچانا ہے۔

سمندری خطرات

سب سے زیادہ تشویشناک صورتحال سمندر کے نیچے ہے۔ وہ بنیادی ڈھانچہ جو عالمی رابطوں اور توانائی کے لیے ناگزیر ہے، اب منظم تخریب کاری کے نشانے پر ہے۔

معاشی بوجھ

روایتی جنگوں کے برعکس، اس حملے میں مالی ذمہ داری یورپی کمپنیوں پر منتقل ہو گئی ہے، جو مرمت اور سیکیورٹی کے لاکھوں ڈالر برداشت کر رہی ہیں۔

حملے کی قسم اہم اہداف بنیادی اثر
سمندری تخریب کاری ڈیٹا کیبلز اور پائپ لائنز مواصلات اور توانائی کی بندش
سائبر حملے سرکاری نظام اور نیٹ ورکس انتظامی مفلوج ہونا اور جاسوسی
زمینی کارروائیاں اہم تنصیبات اور آگ لگانا جسمانی نقصان اور سماجی خوف

اس جارحیت کے کلیدی نکات:

  • 🔹 اسٹریٹجک تنصیبات میں جان بوجھ کر آگ لگانے کے واقعات میں اضافہ۔
  • 🔹 سمندری کیبلز کی انتہائی کمزوری، جو عالمی انٹرنیٹ کی ریڑھ کی ہڈی ہیں۔
  • 🔹 معیشت کو अस्थिर کرنے کے لیے ڈیزائن کیے گئے سوفسٹیکیٹڈ ڈیجیٹل حملے۔

ذریعہ: IMAGO