اقوام متحدہ کی 81ویں جنرل اسمبلی کے دوران، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ تہران کے خلاف ایک تضاد بھری حکمت عملی اپنائے ہوئے ہیں۔ ایک طرف وہ عوامی طور پر 'تباہی' کی دھمکیاں دے رہے ہیں، تو دوسری طرف قطر کے ذریعے خفیہ مذاکرات جاری ہیں تاکہ عالمی توانائی کے بحران اور تیل کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کو روکا جا سکے۔

جنگ اور سفارت کاری کا عجیب ملاپ

موجودہ عالمی جغرافیائی صورتحال امریکہ اور ایران کے درمیان ایک کھلی جنگ کے سائے میں ہے، جس کا آغاز 28 فروری 2026 کو ہوا تھا۔ نیویارک میں اقوام متحدہ کے اجلاس کے دوران، صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایک طرف اسلامی جمہوریہ کو 'مٹانے' کی بات کر رہے ہیں، تو دوسری طرف پس پردہ شدید سفارتی سرگرمیاں جاری ہیں۔


ذرائع کے مطابق، امریکی خصوصی نمائندے اسٹیو وٹکوف (Steve Witkoff) اور جیرڈ کشنر (Jared Kushner) نے قطر کی ثالثی میں ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کے ساتھ تین گھنٹے طویل خفیہ ملاقاتیں کیں۔ دوسری جانب، ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے واضح کیا ہے کہ ان کا ملک ہتھیار نہیں ڈالے گا، تاہم انہوں نے مذاکرات کے دروازے کھلے رکھے ہیں بشرطیکہ 'طاقت کی زبان' چھوڑ کر ان کے جوہری پروگرام کے پرامن ہونے کو تسلیم کیا جائے۔

بحری ناکہ بندی اور Hormuz کا بحران

تناؤ اس وقت عروج پر پہنچ گیا جب CENTCOM (امریکی مرکزی کمانڈ) نے بحری ناکہ بندی نافذ کی، جس کے نتیجے میں 115 تجارتی جہازوں کا رخ موڑ دیا گیا تاکہ تہران کی مالی امداد روکی جا سکے۔

ہرمز آبنائے (Strait of Hormuz) کیا ہے؟
یہ دنیا کا سب سے اہم تجارتی راستہ ہے جہاں سے عالمی تیل کی ایک بڑی مقدار گزرتی ہے۔ یہاں عدم استحکام کی وجہ سے تیل کی قیمتیں آسمان کو چھو رہی ہیں، جس کے باعث امریکہ کو روزانہ 17 ملین بیرل تیل منتقل کرنا پڑ رہا ہے تاکہ قلت سے بچا جا سکے۔

حال ہی میں ایک مال بردار جہاز پر میزائل حملے کی خبریں بھی سامنے آئی ہیں جس سے خطے میں خوف و ہراس پھیل گیا ہے۔

توانائی کا بحران اور معاشی دباؤ

اس سفارتی جلد بازی کی اصل وجہ امریکہ کے اندرونی توانائی کا بحران ہے۔ ڈیزل کی قیمتوں میں شدید اضافہ ہوا ہے:

سال ڈیزل کی قیمت (فی گیلن)
پچھلا سال 3.75 USD
موجودہ دور 6.53 USD

اس مہنگائی نے صدر ٹرمپ پر سیاسی دباؤ بڑھا دیا ہے، یہاں تک کہ حکومت نے ڈیزل کی برآمدات پر پابندی لگانے پر بھی غور کیا تاکہ مقامی قیمتیں کم کی جا سکیں۔

دیگر عالمی محاذ

غزہ: 'بورڈ آف پیس' (Board of Peace) نے بنیادی ڈھانچے کی تعمیر کے لیے 2.450 بلین ڈالر کا ابتدائی منصوبہ پیش کیا ہے۔

یوکرین: صدر زیلنسکی نے دعویٰ کیا ہے کہ روس نے غیر ملکی شہریوں کو دھوکے سے جنگ میں شامل کیا ہے، اور گزشتہ آٹھ مہینوں میں 249,000 روسی فوجی ہلاک ہوئے ہیں۔

مستقبل کی ممکنہ صورتحال

  • ممکن ہے کہ اگر ہرمز آبنائے دوبارہ کھل جائے اور ایندھن کی قیمتیں گریں، تو ٹرمپ ایران کے ساتھ ایک حیران کن معاہدے کا اعلان کریں۔
  • تہران پر معاشی دباؤ اور بحری ناکہ بندی صدر پزشکیان کو جوہری رعایتیں دینے پر مجبور کر سکتی ہے۔
  • اگر خفیہ مذاکرات ناکام ہوئے تو فوجی تصادم کا خطرہ بڑھ سکتا ہے۔
  • چین کے ساتھ ہونے والی اگلی ملاقات میں تائیوان کے مسئلے پر امریکہ کو توانائی کی استحکام کے بدلے سمجھوتہ کرنا پڑ سکتا ہے۔

ماخذ: Al Jazeera