روم میں معاشی کشمکش: کیا اعداد و شمار حقیقت بیان کر رہے ہیں؟
**23 ستمبر 2026** کو اطالوی وزیر اعظم جورجیا میلونی نے قومی شماریاتی ادارے ISTAT (جو کہ اطالوی حکومت کا سرکاری اعداد و شمار فراہم کرنے والا ادارہ ہے) اور وزیر خزانہ جیانکارلو جارجیٹی کی انتظامیہ کے خلاف شدید ناراضگی کا اظہار کیا۔ اس جھگڑے کی بنیادی وجہ عوامی خسارے (Public Deficit) کی تشریح اور ملک کی معاشی بحالی کی رفتار ہے۔
پس منظر: مالیاتی توازن کی اہمیت
اطالیہ طویل عرصے سے یورپی یونین کے سخت مالیاتی قوانین کے دباؤ میں رہا ہے کیونکہ اس ملک پر قرضوں کا بوجھ بہت زیادہ ہے۔ وزیر اعظم میلونی کی حکومت کی کوشش ہے کہ وہ معاشی ترقی کو متاثر کیے بغیر خسارے میں کمی لائے تاکہ یورپی یونین کی جانب سے کسی بھی قسم کی پابندیوں سے بچا جا سکے۔ تاہم، اس مقصد کے حصول میں سیاسی نظریات اور تکنیکی ماہرین کے درمیان اختلافات پیدا ہو رہے ہیں۔
یہ تصادم ایک ایسے نازک وقت میں سامنے آیا ہے جب پورے یورپ کی معاشی استحکام پر نظریں ہیں۔ جہاں وزیر خزانہ جیانکارلو جارجیٹی کا موقف ہے کہ اطالوی خزانہ وزارت نے بہترین حکمت عملی اپنائی ہے اور اطالوی معیشت براعظم یورپ کی بڑی معیشتوں میں خسارے میں کمی کے حوالے سے سب سے آگے ہے، وہیں میلونی نے ISTAT کے اعداد و شمار کی درستگی پر شک ظاہر کیا ہے۔ ان کا خیال ہے کہ یہ اعداد و شمار حکومت کے سیاسی اہداف اور زمینی حقیقت کی عکاسی نہیں کرتے۔
| فریق | موقف / دعویٰ |
|---|---|
| وزیر اعظم میلونی | سرکاری اعداد و شمار (ISTAT) حقیقت سے دور ہو سکتے ہیں۔ |
| وزیر خزانہ جارجیٹی | اطالیہ نے یورپ میں خسارے کی کمی میں بہترین نتائج حاصل کیے ہیں۔ |
یہ صرف ایک معاشی بحث نہیں ہے بلکہ اطالوی سیاست میں بڑھتی ہوئی پولرائزیشن (تقسیم) کا حصہ ہے۔ وزیر اعظم میلونی اس وقت کئی متنازعہ اقدامات بھی کر رہی ہیں، جن میں غیر ملکی طلباء کی تعداد کو محدود کرنا شامل ہے تاکہ تعلیمی اداروں میں مخصوص گروہوں کے گھیراؤ (Ghettoes) کو روکا جا سکے، جس کی وجہ سے انہیں اپوزیشن اور ریاست کے اعلیٰ اداروں کی تنقید کا سامنا ہے۔
عالمی اثرات اور مستقبل کے امکانات
ماہرین کا خیال ہے کہ یہ اندرونی تناؤ یورپی یونین کے مرکز 'برسلز' کے سامنے اطالوی حکومت کے اتحاد کو کمزور کر سکتا ہے۔ اگر یہ تنازع جاری رہا تو سرمایہ کاروں کے اعتماد میں کمی آ سکتی ہے، جس سے اطالوی بانڈز کی قیمتوں پر اثر پڑ سکتا ہے۔ مزید برآں، سرکاری اعداد و شمار پر سوال اٹھانے سے ISTAT کی خود مختاری پر بحث چھڑ سکتی ہے، جو کہ سیاسی طاقت اور تکنیکی اداروں کے درمیان ایک بڑے ادارہ جاتی بحران کی شکل اختیار کر سکتی ہے۔
مآخذ: La Stampa