نیویارک، 22 ستمبر 2026
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اقوام متحدہ کی 81ویں جنرل اسمبلی کے پلیٹ فارم سے دنیا کو یہ پیغام دیا کہ امریکہ ایک "سنہری دور" سے گزر رہا ہے۔ تاہم، ان کے خطاب میں سخت لہجہ نمایاں تھا، جس نے کیریبین، مشرق وسطیٰ اور آرکٹک کے علاقوں میں سفارتی تناؤ کو بڑھا دیا ہے۔
موجودہ عالمی صورتحال (پس منظر)
یہ سربلندی ایک ایسے وقت میں ہو رہی ہے جب دنیا توانائی کے شدید بحران کا شکار ہے۔ ایران کی جانب سے 'ہرمز آبنائے' (Strait of Hormuz) کی بندش اور بحیرہ احمر میں حوثیوں کے حملوں کی وجہ سے تیل کی قیمتیں 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر چکی ہیں۔ ہرمز آبنائے دنیا کے لیے انتہائی اہم ہے کیونکہ یہاں سے عالمی تیل کی ایک بڑی مقدار گزرتی ہے۔ اس کے علاوہ، جرمنی کے چانسلر فریڈریش میرز قیادت کے بحران کا سامنا کر رہے ہیں، جبکہ یوکرین سردیوں کے لیے ڈیزل اور دفاعی نظام کی فراہمی کی کوششیں کر رہا ہے۔
آرکٹک خطہ اور امریکی حکمت عملی
ٹرمپ نے ایک حیران کن اعلان کرتے ہوئے ڈنمارک اور گرین لینڈ کے ساتھ ایک معاہدے پر دستخط کیے ہیں، جس کے تحت وہاں "بڑے پیمانے پر فوجی موجودگی" قائم کی جائے گی اور دو نئے فوجی اڈے بنائے جائیں گے۔ اس اقدام کا مقصد روس اور چین کے اثر و رسوخ کو روکنا اور قطبی راستوں پر امریکی کنٹرول کو مضبوط کرنا ہے۔
لاطینی امریکہ کے حوالے سے بات کرتے ہوئے، ٹرمپ نے منشیات کے گروہوں (Cartels) کو "مغربی نصف کرہ کی داعش" سے تشبیہ دی اور واشنگٹن کے مفادات کے تحفظ کے لیے فوجی طاقت کے استعمال کو جائز قرار دیا، جو کہ ان کے 'امریکا کی ڈھال' (Shield of the Americas) پروگرام کا حصہ ہے۔
سفارتی تناؤ کے اہم نکات
| ملک / علاقہ | ٹرمپ کا موقف / اقدام | ردعمل |
|---|---|---|
| کیوبا | "ناکام ریاست" (Failed State) قرار دیا | کیوبائی وفد نے ہال چھوڑ دیا |
| ایران | جوہری ہتھیاروں کے حصول پر سخت پابندی | ایران نے کہا تعلقات صرف "ہتھیاروں" کے ذریعے رہیں گے |
| روس | ولادیمیر پوتن کو جنگ ختم کرنے کا پیغام | اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل نے اسے بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی قرار دیا |
دوسری جانب، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون اور یوکرینی صدر وولودیمیر زیلینسکی نے میزائل ڈیفنس سسٹم کی رفتار بڑھانے اور ہرمز آبنائے میں جہاز رانی کے تحفظ کے لیے مشاورت کی تاکہ عالمی معیشت پر توانائی کے بحران کے اثرات کو کم کیا جا سکے۔
مستقبل کے امکانات
تجزیہ کاروں کے مطابق، ٹرمپ کا یہ سخت رویہ ہانا (کیوبا) کے ساتھ تعلقات کو مکمل طور پر ختم کر سکتا ہے، جس سے کیریبین خطے میں عدم استحکام پیدا ہونے کا خدشہ ہے۔ ایران کے ساتھ جوہری تناؤ سائبر حملوں یا ہائبرڈ جنگ میں تبدیل ہو سکتا ہے، جبکہ گرین لینڈ کی فوجی سازی کو روس ایک براہ راست اشتعال انگیزی سمجھ کر آرکٹک کے دیگر حصوں میں اپنی موجودگی بڑھا سکتا ہے۔
ماخذ: Imago News