سیاسی منظرنامہ اور نتائج
روس کی پارلیمنٹ، جسے ڈوما (Duma) کہا جاتا ہے (یہ پاکستان یا انڈیا کی پارلیمنٹ کی طرح قانون ساز ادارہ ہے)، کی 450 نشستوں کے لیے ہونے والے یہ انتخابات کسی کھلے مقابلے کے بجائے حکومت کی توثیق کی ایک مشق نظر آئے۔ یونائیٹڈ روسیا نے اپنے تمام حریفوں کو پیچھے چھوڑ دیا، جبکہ حقیقی اپوزیشن پارٹیوں، جیسے یابلکو (Yabloko)، کو یا تو فہرستوں سے نکال دیا گیا یا ان کی اثر و رسوخ کو ختم کر دیا گیا۔
ایک اہم تبدیلی یہ رہی کہ ان انتخابات میں پہلی بار یوکرین کے ان علاقوں (ڈونٹسک، لوہانسک، خرسون اور زاپوریژیا) کے لوگوں نے بھی ووٹ ڈالے جن پر روس کا قبضہ ہے، جس سے کریملن نے ان علاقوں کو باضابطہ طور پر اپنے نظام کا حصہ بنانے کی کوشش کی ہے۔
| سیاسی پارٹی | ابتدائی ووٹ | یوکرین جنگ پر موقف |
|---|---|---|
| یونائیٹڈ روسیا | 57.74% | مکمل حمایت |
| کمیونسٹ پارٹی | 13.67% | حمایت |
| لبرل ڈیموکریٹس | 9.27% | حمایت |
| نیو پیپل (New People) | 7.96% | حمایت |
تکنیکی کنٹرول اور الیکٹرانک ووٹنگ
اس بار انتخابات میں الیکٹرانک ووٹنگ کا بڑے پیمانے پر استعمال کیا گیا، جس پر کئی سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔ آزاد مبصرین جیسے کہ Golos کو نظام سے باہر کر دیا گیا، جس کا مطلب یہ ہے کہ انتخابات کی نگرانی کرنے والا کوئی آزاد ادارہ موجود نہیں تھا۔ سادہ الفاظ میں، یہ ایسا مقابلہ تھا جہاں ریفری اور کھلاڑی دونوں ایک ہی ٹیم کے تھے۔
جنگ، ڈرونز اور ڈیجیٹل حملے
انتخابات کے دوران ماسکو کا ماحول انتہائی کشیدہ تھا۔ ماسکو کے میئر کے مطابق، یوکرین کی جانب سے بھیجے گئے 1,600 سے زائد ڈرونز کو ناکام بنایا گیا، تاہم اس دوران کچھ شہری اور فوجی جانی نقصان بھی ہوا۔ اس کے ساتھ ساتھ، ووٹنگ سسٹم پر 1,000 سے زائد DDoS حملے (ایسے حملے جن میں ویب سائٹ کو ٹریفک سے بھر کر بند کر دیا جاتا ہے) کیے گئے تاکہ عمل میں رکاوٹ ڈالی جا سکے۔
عوام میں فوجی بھرتی کے حوالے سے شدید خوف پایا جاتا ہے۔ ایسی رپورٹس ہیں کہ جن شہریوں نے آن لائن ووٹ دیا، انہیں فوری طور پر فوجی رجسٹریشن کے نوٹیفیکیشن موصول ہوئے۔
یہ جیت ایک ایسے وقت میں آئی ہے جب امریکہ نے روسی توانائی پر 100% ٹیرف لگا دیے ہیں، تاکہ جنگ کے لیے دستیاب فنڈز کو کم کیا جا سکے۔