ورجینیا کی ایک عدالت نے 28 سالہ محمد شریف اللہ کو داعش کے خراسان صوبے (ISKP) کی مدد کرنے کے جرم میں 20 سال قید کی سزا سنائی ہے۔ شریف اللہ پر الزام ہے کہ اس نے 2021 میں کابل ایئرپورٹ پر ہونے والے خودکش حملے کے لیے راستوں کی نشاندہی کی تھی، جس میں 13 امریکی فوجی اور تقریباً 160 افغان شہری لقمہ اجل بن گئے تھے۔

عدالتی فیصلہ: دہشت گردی کی سہولت کاری پر سخت سزا

امریکی عدالت نے محمد شریف اللہ کو دہشت گردی کے لیے مادی مدد فراہم کرنے کے جرم میں سزا سنائی ہے۔ اگرچہ جیوری نے اسے ایبی گیٹ (Abbey Gate) پر ہونے والے حملے کی لاجسٹکس سے منسلک پایا، لیکن براہ راست اموات کے لیے اتفاق رائے نہ ہونے کی وجہ سے اسے عمر قید کے بجائے 20 سال کی سزا دی گئی۔

🌍 پس منظر اور جغرافیائی صورتحال

یہ واقعہ 26 اگست 2021 کو پیش آیا جب امریکی افواج افغانستان سے انخلاء کر رہی تھیں۔ اس افراتفری کے دوران داعش-خراسان (ISKP) نامی شدت پسند گروہ نے کابل ایئرپورٹ کو نشانہ بنایا۔ ISKP ایک ایسی تنظیم ہے جو خطے میں عدم استحکام پیدا کرنے اور غیر ملکی افواج کو نشانہ بنانے کے لیے جانی جاتی ہے۔

📊 اہم معلومات پر ایک نظر

تفصیل معلومات
ملزم محمد شریف اللہ (عمر: 28 سال)
سزا 20 سال قید
جانی نقصان 13 امریکی فوجی / ~160 افغان
کردار حامد کرزئی ایئرپورٹ کے راستوں کی جاسوسی

🔍 یہ کیس آج کیوں اہم ہے؟

استغاثہ کا دعویٰ ہے کہ شریف اللہ ایک ایسے وسیع نیٹ ورک کا حصہ تھا جس نے کئی حملوں میں شرکت کی، بشمول مارچ 2024 میں ماسکو کے ایک کنسرٹ ہال پر ہونے والا حملہ۔ یہ ظاہر کرتا ہے کہ وسطی ایشیا میں داعش کے سیلز اب بھی عالمی سطح پر حملے کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

⚖️ قانونی اثرات اور دفاع کا موقف

دفاعی وکیلوں نے دلیل دی کہ ملزم کے اعترافی بیانات پاکستان میں تشدد کے خوف کے تحت لیے گئے تھے۔ تاہم، یہ فیصلہ دہشت گردی میں مدد کرنے والوں کے لیے ایک مثال ہے کہ بھلے ہی کسی نے بٹن نہ دبایا ہو، لیکن راستوں کی نشاندہی اور لاجسٹکس فراہم کرنے والے بھی برابر کے مجرم تصور کیے جائیں گے۔