امریکہ کے سیکرٹری آف اسٹیٹ مارکو روبیو نے ایکواڈور کے دارالحکومت کیٹو میں ایک اہم اعلان کیا ہے، جس کے تحت 'لوس ٹیگورونیس' نامی مجرمانہ گروہ کو دہشت گرد تنظیم قرار دے دیا گیا ہے۔ یہ اقدام منشیات کی اسمگلنگ اور شہریوں پر حملوں کو روکنے کے لیے اٹھایا گیا ہے، جس کے ساتھ ہی 45 ملین ڈالر کی اضافی امداد کا بھی اعلان کیا گیا ہے۔

امریکہ اور ایکواڈور کا مشترکہ آپریشن: جرائم کے خلاف نئی جنگ

جنوبی امریکہ کے ملک ایکواڈور میں امن و امان کی صورتحال کو بہتر بنانے کے لیے امریکہ نے ایک سخت حکمت عملی اپنائی ہے۔

امریکہ کے سیکرٹری آف اسٹیٹ مارکو روبیو نے بدھ کے روز کیٹو (ایکواڈور کے دارالحکومت) کے اپنے سرکاری دورے کے دوران اعلان کیا کہ مجرمانہ گروہ 'لوس ٹیگورونیس' (Los Tiguerones) کو اب ایک دہشت گرد تنظیم تسلیم کیا جائے گا۔ یہ فیصلہ ایکواڈور کے صدر ڈینیئل نوبوا کے ساتھ ملاقات کے بعد کیا گیا ہے۔

معلوماتی نوٹ: 'لوس ٹیگورونیس' ایک ایسا طاقتور گینگ ہے جو بنیادی طور پر منشیات کی عالمی تجارت (خاص طور پر کوکین) میں ملوث ہے اور جس کے پاس قومی فوجوں کے برابر جدید اسلحہ موجود ہے۔

کارروائی کی وجوہات اور پس منظر

مارکو روبیو کے مطابق، اس گروہ نے نہ صرف منشیات کی اسمگلنگ کی بلکہ عام شہریوں، صحافیوں اور قانون نافذ کرنے والے اداروں پر وحشیانہ حملے بھی کیے۔ انہوں نے 2024 میں ایک مشہور ٹی وی چینل 'TC Televisión' پر ہونے والے مسلح حملے کا ذکر کیا، جس نے پوری دنیا کو ہلا کر رکھ دیا تھا۔

مالی اور فوجی امداد

  • 💰 45 ملین ڈالر: امریکی کانگریس سے ان مجرمانہ گروہوں کے خاتمے کے لیے اضافی فنڈز کی درخواست کی جائے گی۔
  • 🛡️ مشترکہ آپریشنز: امریکہ اور ایکواڈور کی ایلیٹ فورسز (اعلیٰ تربیت یافتہ دستے) اب روزانہ کی بنیاد پر مشترکہ کارروائیاں کر رہے ہیں۔

دہشت گرد قرار دینے کے اثرات

  • ❄️ اثاثوں کا منجمد ہونا: امریکہ اب اس گروہ کے تمام مالی اثاثوں کو منجمد کر سکے گا۔
  • 📡 انٹیلیجنس شیئرنگ: جاسوسی اور فوجی تعاون میں اضافہ کیا جائے گا تاکہ ان کے نیٹ ورک کو تباہ کیا جا سکے۔

'شیلڈ آف دی امریکہز' (Americas Shield) کیا ہے؟

یہ تمام اقدامات ٹرمپ انتظامیہ کی ایک بڑی حکمت عملی کا حصہ ہیں جسے 'شیلڈ آف دی امریکہز' کہا جاتا ہے۔ اس کا مقصد جنوبی امریکہ کے دوست ممالک (جیسے ایکواڈور، کولمبیا اور پیرو) کے ساتھ مل کر منشیات، منظم جرائم اور غیر قانونی ہجرت کے خلاف ایک مضبوط دیوار کھڑی کرنا ہے۔

ملکاہم ملاقات / شخصیتمقصد
کولمبیاابیلارڈو ڈی لا اسپریلامنشیات کے خلاف پالیسی اور جوہری توانائی کے معاہدے
پیروکیکو فوجیموریسخت قانون سازی کے ذریعے جرائم کا خاتمہ

امید کی کرن اور مستقبل

ایکواڈور کی حکومت نے اس فیصلے کا خیرمقدم کیا ہے۔ صدر نوبوا نے امریکی تعاون کا شکریہ ادا کرتے ہوئے امید ظاہر کی ہے کہ ان اقدامات سے ملک میں پھیلی ہوئی تشدد کی لہر ختم ہوگی۔ تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ اگر یہ تعاون مسلسل رہا، تو نہ صرف 'لوس ٹیگورونیس' بلکہ خطے کے دیگر خطرناک گروہوں (جیسے وینزویلا کا 'ٹرین ڈی ارگوا') کے لیے بھی یہ ایک سخت پیغام ہوگا۔

ماخذ: The Guardian