Reform UK کی کانفرنس میں ہلچل
برطانیہ کی سیاست میں ایک نیا طوفان اٹھ کھڑا ہوا ہے۔ 4 ستمبر 2026 کو برمنگھم میں منعقدہ Reform UK کی سالانہ کانفرنس کے دوران نائیجل فاراج پر ان کے قریبی مشیروں کی مبینہ غیر قانونی فنڈنگ کے الزامات نے سیاست دانوں اور عوام کو حیران کر دیا۔ یہ معاملہ اس وقت سامنے آیا جب Verbatim نامی تحقیقاتی گروپ، جو Centre for Climate Reporting سے منسلک ہے، نے Channel 4 News پر ایک خفیہ ویڈیو جاری کی۔
اس ویڈیو میں فاراج کے دو اہم مشیروں ڈین جوکس اور جیمز اور کو ایک مبینہ امریکی تاجر سے بات کرتے ہوئے دکھایا گیا ہے، جو دراصل ایک خفیہ صحافی تھا۔ جوکس، جو فاراج کے قریب ترین لوگوں میں سے ایک ہیں اور کمیونیکیشن اور اسٹریٹجی کے مشیر ہیں، اور اور، جو پالیسی کے سربراہ اور کیمبرج یونیورسٹی میں ایسوسی ایٹ پروفیسر ہیں، پر الزام ہے کہ وہ غیر قانونی عطیات کی منصوبہ بندی کر رہے تھے۔
سازش: ایک انٹرمیڈیٹری کے ذریعے عطیات
ویڈیو میں جوکس اور اور ایک برطانوی انٹرمیڈیٹری کے ذریعے £30,000 (جو JL Partners کے سروے کے لیے تھے) اور £500,000 منتقل کرنے کی بات کرتے ہیں۔ اس کا مقصد Reform UK کو فائدہ پہنچانا تھا بغیر عطیات کو ظاہر کیے، جو برطانیہ کے سیاسی فنڈنگ قوانین کی خلاف ورزی ہے۔
فاراج خود بھی کلیکٹن میں اس جعلی تاجر کے ساتھ لنچ پر شریک ہوئے اور انہیں شکریہ ادا کیا۔ ویڈیو میں فاراج کو یہ کہتے ہوئے سنا جا سکتا ہے: "thank you, both" اور "all above board" (سب کچھ درست ہے)۔ ان بیانات نے تنقید کی لہر دوڑا دی ہے اور میٹروپولیٹن پولیس فاراج، اور اور جوکس کے خلاف درخواست کا جائزہ لے رہی ہے۔
فاراج کا ردعمل: 'پب کی باتیں'
فاراج، جو اپنے جارحانہ انداز کے لیے مشہور ہیں، نے اس معاملے کو "ایک چھوٹی سی مقامی مشکل"، "ایک دھوکہ دہی کی مشق" اور "پب کی باتیں" قرار دیا۔ اپنی تقریر میں انہوں نے اصرار کیا کہ مشیر "کنٹریکٹرز" تھے اور پارٹی کے اندرونی عمل کسی بھی غیر قانونی عطیے کو روک دیتے۔ تاہم، ویڈیو اور ریکارڈنگز نے ان کے موقف پر سوالیہ نشان لگا دیا ہے۔
یہ پہلا موقع نہیں ہے جب فاراج مالی اسکینڈل کا سامنا کر رہے ہیں۔ ماضی میں بھی ان پر £5 ملین کے غیر اعلان شدہ عطیے پر تنقید ہو چکی ہے۔ کانفرنس میں جورڈن بارڈیلا، فرانسیسی National Rally کے رہنما، کے ساتھ امیگریشن پر ایک معاہدے کا اعلان بھی کیا گیا، لیکن اس اسکینڈل نے اس اعلان کو مکمل طور پر پس پشت ڈال دیا۔
داخلی تقسیم اور ممکنہ نتائج
اس اسکینڈل نے Reform UK کے اندرونی اختلافات کو مزید گہرا کر دیا ہے۔ زیا یوسف، جو داخلی امور کے ترجمان ہیں، نے فوری طور پر جوکس اور اور سے علیحدگی اختیار کر لی۔ اب قیاس کیا جا رہا ہے کہ یوسف، رابرٹ جینرک اور رچرڈ ٹائس کے درمیان قیادت کی دوڑ ہو سکتی ہے۔ کچھ ذرائع کے مطابق، اگر یوسف Reform UK چھوڑ دیتے ہیں تو Restore Britain پارٹی کے رہنما روپرٹ لو کے ساتھ مفاہمت ممکن ہے۔
دریں اثنا، کیمبرج یونیورسٹی نے اور کی شمولیت کی تحقیقات شروع کر دی ہیں، اور ڈیموکریٹک لبرلز نے اسٹینڈرڈز کمشنر سے تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔ فاراج کی تقریر کے دوران موسمیاتی احتجاج نے بھی خلل ڈالا، جس سے تقریب میں مزید کشیدگی پیدا ہو گئی۔
ملزمان کے بیانات
جوکس اور اور نے اپنے دفاع میں کہا ہے کہ یہ "انٹریپمنٹ" (اشتعال انگیزی) اور "منتخب ایڈیٹنگ" ہے۔ دونوں نے پارٹی کی اندرونی تحقیقات اور حکام کے ساتھ تعاون کرنے کا اعلان کیا ہے۔ تاہم، Reform UK کی ساکھ کو پہنچنے والا نقصان خاص طور پر اس وقت بہت بڑا ہو سکتا ہے جب پارٹی برطانیہ میں ایک اہم سیاسی قوت کے طور پر اپنی پوزیشن مضبوط کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔
یہ اسکینڈل سیاسی فنڈنگ میں شفافیت کے بارے میں ایک بڑا سوال اٹھاتا ہے اور Reform UK کے طریقوں پر گہری نظر ڈالنے پر مجبور کرتا ہے۔ جب تک میٹروپولیٹن پولیس درخواست کا جائزہ لے رہی ہے، فاراج اور ان کی پارٹی کا سیاسی مستقبل خطرے میں ہے۔