فلوریڈا میں منگل 18 اگست 2026 کو ہونے والے پرائمری انتخابات کے نتائج سامنے آگئے ہیں۔ ریپبلکن بائرن ڈونلڈز اور ڈیموکریٹ ڈیوڈ جولی نے اپنی اپنی پارٹی سے کامیابی حاصل کی ہے اور وہ 3 نومبر کو گورنر کے عہدے کے لیے آمنے سامنے ہوں گے۔ ٹرمپ نے اپنے حلیف کی جیت پر خوشی کا اظہار کیا ہے، جبکہ جولی 28 سال بعد فلوریڈا میں ڈیموکریٹک گورنر جتوانے کی کوشش کریں گے۔

امریکی سیاست کا اہم مرحلہ: فلوریڈا کے پرائمری انتخابات

امریکی ریاست فلوریڈا میں 18 اگست 2026 کو منعقد ہونے والے پرائمری انتخابات نے گورنر، سینیٹ اور ایوان نمائندگان کے لیے امیدواروں کا تعین کر دیا ہے۔ یہ انتخابات اس لیے اہم ہیں کیونکہ فلوریڈا امریکہ کی تیسری سب سے بڑی آبادی والی ریاست ہے اور یہاں کے نتائج قومی سیاست پر گہرے اثرات ڈالتے ہیں۔ فلوریڈا میں پرائمری انتخابات بند نظام پر مبنی ہیں، یعنی صرف وہی لوگ ووٹ ڈال سکتے ہیں جو کسی پارٹی کے رجسٹرڈ رکن ہوں۔

گورنر کے لیے پرائمری کے نتائج

پارٹیفاتح امیدوارووٹفیصد (79% گنتی کے بعد)
ریپبلکنبائرن ڈونلڈز764,284کلیدی کاؤنٹیوں میں نمایاں برتری
ڈیموکریٹڈیوڈ جولی727,261کلیدی کاؤنٹیوں میں نمایاں برتری

ماخذ: ایسوسی ایٹڈ پریس اور سی این این۔

جنوبی فلوریڈا میں ڈونلڈز کی زبردست حمایت

سب سے زیادہ آبادی والی کاؤنٹیوں میں بائرن ڈونلڈز کو خاصی حمایت ملی:

  • میامی-ڈیڈ: 58.7%
  • پام بیچ: 59%
  • بروورڈ: 56.2%
  • اورنج (آرلینڈو): 48.3%
  • ہلزبرو (ٹمپا): 44.4%

دوسری طرف ڈیوڈ جولی کو بھی ڈیموکریٹک ووٹرز کی بھرپور حمایت حاصل ہوئی: میامی-ڈیڈ میں 52.9%، پام بیچ میں 64.8%، بروورڈ میں 63.5%، اورنج میں 50.4% اور ہلزبرو میں 62.3%۔

ٹرمپ کا جشن اور ڈی سینٹیس کا پسماندہ کردار

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر ڈونلڈز کو مبارکباد دی اور لکھا: "بائرن ڈونلڈز جیت گئے!" اس جیت کو موجودہ گورنر ران ڈی سینٹیس کے خلاف ایک ردعمل کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، جنہوں نے کسی امیدوار کی حمایت نہیں کی اور اپنے ممکنہ جانشینوں پر تنقید کرتے رہے۔ ڈونلڈز، جنہیں ٹرمپ اور ریپبلکن قیادت کی حمایت حاصل تھی، نے نائب گورنر جے کولنز اور ریاستی ایوان کے سابق اسپیکر پال رینر جیسے حریفوں کو شکست دی۔

امیدواروں کا تعارف

بائرن ڈونلڈز (ریپبلکن)

1978 میں بروکلین میں پیدا ہوئے، انہوں نے فلوریڈا اسٹیٹ یونیورسٹی سے مارکیٹنگ اور فنانس میں ڈگری حاصل کی۔ وہ 2020 سے 19ویں کانگریشنل ڈسٹرکٹ کے نمائندے ہیں۔ وہ اسکول چوائس اور والدین کے حقوق کے حامی ہیں۔ اگر وہ جیت جاتے ہیں تو وہ فلوریڈا کے پہلے سیاہ فام گورنر ہوں گے۔

ڈیوڈ جولی (ڈیموکریٹ)

1972 میں پنیلاس کاؤنٹی میں پیدا ہوئے، وہ 2018 تک ریپبلکن تھے لیکن ٹرمپ سے مایوس ہو کر پارٹی چھوڑ دی۔ سات سال آزاد رہنے کے بعد اپریل 2025 میں ڈیموکریٹک پارٹی میں شامل ہوئے۔ ان کی مہم کا مرکز زندگی کی قیمت اور ماحولیاتی تحفظ ہے۔ انہوں نے گوین گراہم کو نائب گورنر کا امیدوار منتخب کیا ہے۔

سینیٹ اور ایوان کی اہم نشستوں کے لیے مقابلے

گورنر کے علاوہ، فلوریڈا کے ووٹروں نے سینیٹ میں مارکو روبیو کی جگہ لینے کے لیے بھی امیدوار منتخب کیے، جنہوں نے سیکریٹری آف اسٹیٹ بننے کے لیے استعفیٰ دیا تھا۔ ریپبلکن ایشلے موڈی، جنہیں ٹرمپ کی حمایت حاصل ہے، کا مقابلہ ڈیموکریٹ انجی نکسن اور ایلکس ونڈمین سے ہے۔ موڈی، جو سابق اٹارنی جنرل ہیں، نے اپنی مہم میں 11.3 ملین ڈالر اکٹھے کیے، جبکہ نکسن نے 975,000 اور ونڈمین نے 16.3 ملین ڈالر۔ فاتح جنوری 2029 تک اس نشست پر فائز رہے گا۔

جنوبی فلوریڈا میں نئے حلقہ بندیوں کی وجہ سے کچھ تلخ مقابلے دیکھنے کو ملے، جیسے سابق ڈیموکریٹک نمائندہ ڈیبی واسرمین شلٹز کا سابق نمائندہ شیلا چیرفیلس-میک کارمک سے مقابلہ۔ ڈونلڈز کی خالی ہونے والی نشست کے لیے کئی ایسے امیدوار بھی میدان میں تھے جن کے خلاف مقدمات درج ہیں، جن میں جان اسٹرینڈ بھی شامل ہے جو 6 جنوری 2021 کو کیپیٹل پر حملے میں ملوث تھے۔

ملک بھر میں دیگر پرائمری انتخابات

الاسکا میں ریپبلکن سینیٹر ڈین سلیوان تیسری مدت کے لیے انتخاب لڑ رہے ہیں، لیکن ان کے سامنے ایک ایسا حریف ہے جس کا نام بھی ڈینیل جے سلیوان جونیئر ہے، جس کی وجہ سے الجھن پیدا ہو گئی۔ وائیومنگ میں پہلی بار 30 سالوں میں گورنر، سینیٹ اور ایوان کی نشستیں خالی ہیں، کیونکہ سینیٹر سنتھیا لومس ایک ہی مدت کے بعد ریٹائر ہو رہی ہیں۔ کیلیفورنیا کے 14ویں ڈسٹرکٹ میں ایرک سوال ویل کی خالی نشست کے لیے خصوصی انتخاب ہو رہا ہے، جہاں اسرائیل نواز گروپوں نے 4 ملین ڈالر سے زیادہ خرچ کیے ہیں۔

یہ پرائمری انتخابات 3 نومبر کو ہونے والے وسط مدتی انتخابات کا ایک اہم اشارہ ہیں، جب ایوان نمائندگان کی تمام نشستیں اور سینیٹ کی ایک تہائی نشستیں داؤ پر لگی ہوں گی۔ رائے شماری کے مطابق ریپبلکن کو معمولی برتری حاصل ہے۔