خوفناک اور پراسرار فلموں کے ماہر، رابرٹ ایگرز، اب دنیا کی مشہور ترین رومانوی کہانی 'رومیو اینڈ جولئٹ' کو بڑے پردے پر لانے کی تیاری کر رہے ہیں۔ فوکس فیچرز (Focus Features) کے ساتھ جاری مذاکرات کے مطابق، یہ فلم نہ صرف بصری طور پر شاندار ہوگی بلکہ اس میں قدیم انگریزی زبان کا استعمال کیا جائے گا، جو اسے دیگر ورژن سے بالکل مختلف بنائے گا۔

جذبات، المیہ اور قدیم انگریزی کا جادو

تیار ہو جائیں ایک ایسی رومیو اینڈ جولئٹ کے لیے جو روایتی فلموں سے بالکل مختلف ہوگی۔ مشہور ہدایت کار رابرٹ ایگرز فوکس فیچرز کے ساتھ اس کلاسک کہانی کی ہدایت کاری اور پروڈکشن کے لیے مذاکرات کے آخری مراحل میں ہیں۔

سب سے حیران کن بات یہ ہے کہ ایگرز اس فلم میں قدیم انگریزی (Olde English) کا استعمال کریں گے تاکہ فلم کا ماحول بالکل اصلی اور گہرا محسوس ہو، جو کہ ان کی فلموں کی خاص پہچان ہے۔

📜 ویرونا کا سفر: پس منظر اور مقام

رابرٹ ایگرز کو فلمی دنیا میں خوف اور پراسراریت کے بادشاہ کے طور پر جانا جاتا ہے۔ انہوں نے حال ہی میں فلم Nosferatu کے ذریعے عالمی شہرت حاصل کی، جس نے تقریباً 182 ملین ڈالرز کمائے۔

پروجیکٹ تفصیل/تاریخ
Werwulf تاریخِ ریلیز: 25 دسمبر
Labyrinth Sequel TriStar Pictures اور Jim Henson کمپنی کے ساتھ
Romeo & Juliet مذاکرات جاری (نیا رومانوی تجربہ)

پہلے خونخوار بھیڑیوں اور ویمپائرز کی دنیا دکھانے والے ایگرز کا اب ویرونا (اٹلی کا وہ شہر جہاں یہ کہانی قائم ہے) کے عاشقوں کی طرف آنا ان کے کیریئر کا ایک جرات مندانہ قدم مانا جا رہا ہے۔

ایک نیا تجربہ

یہ پروجیکٹ ایگرز کے لیے ایک بڑی تبدیلی ہے۔ جہاں ان کی پچھلی فلمیں مافوق الفطرت اور لوک داستانوں پر مبنی تھیں، وہیں اب وہ ایک رومانوی المیے کو چھوئیں گے۔ تاہم، ان کے انداز کو دیکھتے ہوئے یہ توقع کی جا سکتی ہے کہ یہ محبت کی کہانی بھی اتنی ہی گہری اور اثر انگیز ہوگی جتنی ان کی خوفناک فلمیں ہوتی ہیں۔

✨ دلچسپ حقیقت

قدیم انگریزی (Olde English) کا استعمال یہ ظاہر کرتا ہے کہ ایگرز تاریخ اور اصل متن کے ساتھ مکمل انصاف کرنا چاہتے ہیں۔ وہ ہالی ووڈ کے عام جدید انداز کے بجائے ناظرین کو اس دور میں لے جانا چاہتے ہیں جب شیکسپیئر نے یہ شاہکار لکھا تھا۔

🔮 Imago کی پیش گوئی

ایگرز کی سابقہ فلموں کو دیکھتے ہوئے، یہ ممکن ہو سکتا ہے کہ فلم کا انداز 'گوتھک' (Gothic) اور تاریک ہو، جس میں چمکدار رنگوں کے بجائے گہرے شیڈز کا استعمال کیا جائے۔ ساتھ ہی یہ امکان ہے کہ کاسٹنگ کے لیے ایسے نئے ٹیلنٹ کو منتخب کیا جائے جو قدیم زبان پر عبور رکھتے ہوں۔ اس کے علاوہ، یہ فلم اپنی بہترین ڈیزائننگ اور کاسٹیومز کی وجہ سے آسکر (Oscar) ایوارڈز کی دوڑ میں بھی شامل ہو سکتی ہے۔