تجارتی استحکام کی طرف بڑھتے ہوئے قدم ایک بار پھر رک گئے ہیں۔ ایک عارضی معاہدے اور سپریم کورٹ کے فیصلے کے باوجود، ریاستہائے متحدہ نے سوئٹزرلینڈ پر دوبارہ درآمدی ڈیوٹیز (ٹیرف) عائد کر دی ہیں، جس سے دونوں عالمی طاقتوں کے درمیان کسٹم تناؤ ایک بار پھر شروع ہو گیا ہے۔

سوئٹزرلینڈ اور ریاستہائے متحدہ (USA) کے درمیان تجارتی تعلقات ایک بار پھر اتار چڑھاؤ کا شکار ہو گئے ہیں۔ اگرچہ نومبر میں تنازعات کو کم کرنے کے لیے ایک کسٹم معاہدے پر اتفاق کیا گیا تھا، لیکن یہ امن بہت مختصر ثابت ہوا۔

یہ تنازعہ فروری میں اس وقت قانونی رخ اختیار کر گیا جب امریکی سپریم کورٹ نے یہ فیصلہ سنایا کہ ڈونالڈ ٹرمپ کی انتظامیہ کی جانب سے عائد کیے گئے اصل ٹیرف غیر قانونی تھے۔ اس فیصلے سے ایسا لگا تھا کہ تجارتی رکاوٹیں ہمیشہ کے لیے ختم ہو جائیں گی۔

غیر متوقع موڑ:

ایک عارضی حل نافذ کرنے کے بعد، امریکی حکومت نے دوبارہ ٹیرف لاگو کرنے کا فیصلہ کیا ہے، لیکن اس بار انہوں نے اس اقدام کو قانونی تحفظ دینے کے لیے ایک نئی قانونی بنیاد کا سہارا لیا ہے۔

اس اقدام کی وجہ سے ایک حتمی معاہدے کے لیے جاری مذاکرات غیر یقینی صورتحال کا شکار ہو گئے ہیں، کیونکہ دونوں ممالک اپنی تجارتی توازن (Balance of Trade) کو برقرار رکھنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

تنازعے کے اہم مراحل:

تاریخ/وقت واقعہ
نومبر ابتدائی کسٹم معاہدے پر دستخط۔
فروری سپریم کورٹ نے ٹرمپ دور کے ٹیرف کو غیر قانونی قرار دیا۔
موجودہ صورتحال نئے قانونی فریم ورک کے تحت ٹیرف کی دوبارہ بحالی۔

اس معاشی اثرات کی وجہ سے درآمدات کی لاگت میں عدم استحکام پیدا ہوا ہے اور ایک مستقل معاہدے پر دستخط میں تاخیر ہو رہی ہے، جو دونوں ممالک کی کمپنیوں کے لیے قانونی تحفظ فراہم کر سکتا تھا۔


ماخذ: اصل خبر کا لنک