امریکی دباؤ کے تحت، G7 کی طاقتور ترین معیشتیں اس جمعہ کو برسلز میں ایک اہم اجلاس کر رہی ہیں۔ اس کا مقصد ڈیزل کے تزویراتی ذخائر کو ریلیز کرنا ہے تاکہ عالمی سطح پر ایندھن کی قیمتوں میں کمی لائی جا سکے اور توانائی کے بحران سے بچا جا سکے۔

عالمی توانائی کے بحران کا حل تلاش کرنے کی کوشش

جغرافیائی سیاست کی دنیا میں تیزی سے تبدیلیاں آ رہی ہیں۔ G7 (جس میں فرانس، جرمنی، اٹلی، برطانیہ، امریکہ، کینیڈا اور جاپان شامل ہیں) نے ایندھن کی قیمتوں کے بحران سے نمٹنے کے لیے برسلز میں ایک ہنگامی سربراہی اجلاس طلب کیا ہے۔

پس منظر: یہ اجلاس امریکہ کی جانب سے یورپی ممالک پر براہ راست دباؤ کے نتیجے میں بلایا گیا ہے۔ واشنگٹن کا موقف واضح ہے: یا تو ڈیزل کے تزویراتی ذخائر (Strategic Reserves) کو مارکیٹ میں لایا جائے، ورنہ عالمی مارکیٹ کو برآمدات پر ممکنہ پابندیوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

فرانس کا مجوزہ منصوبہ

امریکہ کے مطالبات کے جواب میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے تیل کے بیرلز ریلیز کرنے کی ایک ٹھوس تجویز پیش کی ہے، جس کی تفصیلات درج ذیل ہیں:

وسائل (Resource) مجوزہ مقدار
ڈیزل (Diesel) 50 ملین بیرلز
خام تیل (Crude Oil) 50 ملین بیرلز

یہ پیشکش اس وقت سامنے آئی ہے جب امریکہ نے باضابطہ طور پر فرانس سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ زیادہ سے زیادہ 180 دنوں کے اندر کل 100 ملین بیرلز ڈیزل ریلیز کرے۔

اس سفارتی کوششوں میں برطانیہ کے وزیر خارجہ ایڈ ملیبینڈ کا کردار بھی کلیدی ہے، جنہوں نے فرانس کے ساتھ مل کر اس اجلاس کو جلد از جلد فعال کرنے کے لیے تزویراتی کالز کا سلسلہ جاری رکھا ہے۔

اہم نکات:

  • وجہ: ایندھن کی قیمتوں میں شدید اتار چڑھاؤ اور اضافہ۔
  • اقدام: مارکیٹ میں ڈیزل اور خام تیل کے بڑے ذخائر کی فراہمی۔
  • خطرہ: اتفاق نہ ہونے کی صورت میں برآمدات پر پابندیاں۔

ذریعہ: IMAGO