امریکی مالیاتی منڈی اس وقت شدید اتار چڑھاؤ کا شکار ہے کیونکہ 10 سالہ ٹریژری بانڈز کی شرحِ منافع بڑھ کر 5.12% تک پہنچ گئی ہے۔ معاشی ڈیٹا کی توقع سے زیادہ مضبوطی نے فیڈرل ریزرو کی جانب سے شرحِ سود میں مزید اضافے کے امکانات کو بڑھا دیا ہے، جس کے نتیجے میں Nasdaq اور S&P 500 جیسے بڑے اسٹاک انڈیکس میں کمی دیکھی گئی ہے۔

آج کی مالیاتی رپورٹ (خلاصہ)
Nasdaq -1.1%
امریکی بانڈ (10 سالہ) 5.12%
Brent آئل 103 USD
پس منظر اور اصطلاحات کی وضاحت

امریکی معیشت نے غیر متوقع استحکام دکھایا ہے۔ ستمبر کے لیے PMI (Purchasing Managers' Index)، جو صنعتی پیداوار کی صحت کو ظاہر کرتا ہے، 57 پوائنٹس تک پہنچ گیا (توقع 53.6 کی تھی)۔ یہ گزشتہ پانچ سالوں میں کاروباری ترقی کی تیز ترین رفتار ہے۔

جب معیشت "اوور ہیٹ" (Overheating) ہو جاتی ہے، تو فیڈرل ریزرو (امریکہ کا مرکزی بینک) مہنگائی کو روکنے کے لیے شرحِ سود (Interest Rates) بڑھاتا ہے۔ اس وقت اکتوبر اور دسمبر میں شرحِ سود بڑھنے کا امکان 71% تک پہنچ گیا ہے۔

10 سالہ ٹریژری بانڈز کی شرحِ منافع میں یہ اضافہ 2007 کے عالمی مالیاتی بحران کے بعد سب سے زیادہ ہے۔ جب بانڈز زیادہ منافع دیتے ہیں، تو سرمایہ کار اسٹاک مارکیٹ جیسے رسکی اثاثوں سے پیسہ نکال کر بانڈز میں منتقل کرتے ہیں۔

اس کا اثر Nasdaq Composite پر پڑا، جو 1.1% گر گیا، خاص طور پر ٹیکنالوجی اور سیمی کنڈکٹر کمپنیوں کے شیئرز متاثر ہوئے۔

کمپنی کی خبر: McDonald's

میکڈونلڈز کے شیئرز میں 5% کی کمی آئی کیونکہ کمپنی نے 2036 تک اپنی فرنچائزز کو جدید بنانے کے لیے 8.5 بلین امریکی ڈالر کی سرمایہ کاری کا اعلان کیا ہے۔ مارکیٹ اسے فوری منافع میں کمی کے طور پر دیکھ رہی ہے۔

عالمی اثرات اور خام مال (Commodities)
علاقہ/شے تفصیل/قیمت
جاپان اور برطانیہ سرکاری بانڈز کی شرحِ منافع ریکارڈ سطح پر (جاپان 1996 کے بعد پہلی بار 3.075% تک پہنچا)۔
تیل (WTI) قیمت بڑھ کر 92.75 USD ہوگئی۔
سونا (Gold) قیمت میں 1.2% کمی آئی اور یہ 4,320 USD فی اونس پر آگیا۔
ترقی پذیر معیشتیں جنگوں اور توانائی کے بحران کی وجہ سے 41 ممالک کی ترقی کی پیش گوئی کم کر کے 2.5% کر دی گئی۔
مستقبل کی پیش گوئی

اگر صنعتی پیداوار (PMI) اسی طرح بڑھتی رہی، تو امکان ہے کہ فیڈرل ریزرو اکتوبر میں شرحِ سود میں اضافہ کرے گا، جس سے ٹیکنالوجی شیئرز میں مزید کمی ہو سکتی ہے۔ اسی طرح، اگر برینٹ آئل 100 ڈالر سے اوپر رہا، تو یہ عالمی مہنگائی کو مزید بڑھائے گا، جس کے نتیجے میں یورپی بینکوں کو اپنی سخت پالیسیاں جاری رکھنی پڑیں گی۔