آسٹریلیا نے ایک تاریخی قانون منظور کیا ہے جس کے تحت ڈیجیٹل پلیٹ فارمز جیسے گوگل، میٹا، مائیکروسافٹ اور ٹک ٹاک کو خبروں کے مواد کے استعمال کے بدلے میڈیا اداروں کو ادائیگی کرنا لازمی ہوگا۔ اگر یہ کمپنیاں نیوز ایڈیٹرز کے ساتھ تجارتی معاہدے تک نہیں پہنچتیں تو ان پر خصوصی ٹیکس عائد کیا جائے گا۔ اس اقدام کا مقصد بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں اور مقامی پریس کے درمیان توازن قائم کرنا ہے، کیونکہ سرچ انجنز اور سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کے غلبے کی وجہ سے میڈیا کی اشتہاری آمدنی میں نمایاں کمی آئی ہے۔
آسٹریلوی حکومت کی طرف سے پیش کردہ یہ قانون ایک اجتماعی مذاکراتی نظام قائم کرتا ہے: پلیٹ فارمز میڈیا کو رضاکارانہ ادائیگی کی پیشکش کر سکتے ہیں، لیکن اگر معاہدہ نہیں ہوتا تو ایک اضافی ٹیکس لاگو ہوتا ہے۔ یہ طریقہ کار 2021 کے نیوز میڈیا بارگیننگ کوڈ کی یاد دلاتا ہے، جس نے گوگل اور میٹا کو آسٹریلوی اشاعتی اداروں کے ساتھ کروڑوں ڈالر کے معاہدے کرنے پر مجبور کیا تھا۔ تاہم، نیا قانون مزید کمپنیوں تک دائرہ کار بڑھاتا ہے اور ٹیکس کی دھمکی کو دباؤ کے طور پر شامل کرتا ہے۔
نیا ٹیکس کیسے کام کرے گا؟
رپورٹس کے مطابق، یہ قانون کوئی مخصوص رقم مقرر نہیں کرتا، بلکہ فریقین کے درمیان مذاکرات کے لیے ایک فریم ورک قائم کرتا ہے۔ اگر مذاکرات ناکام ہو جائیں تو حکومت ایک ٹیکس عائد کر سکتی ہے جو مقامی صحافت کی مالی معاونت کے لیے ایک فنڈ میں جمع کیا جائے گا۔ اس اقدام میں ٹک ٹاک جیسے پلیٹ فارمز بھی شامل ہیں، جو حالیہ برسوں میں نیوز ٹریفک کا ایک اہم ذریعہ بن گئے ہیں۔
آسٹریلوی خزانے کے وزیر نے اس منصوبے کو پیش کرتے ہوئے دلیل دی کہ ٹیکنالوجی کمپنیاں میڈیا کے تیار کردہ مواد سے فائدہ اٹھاتی ہیں بغیر اس کے تخلیق کاروں کو مناسب معاوضہ دیے۔ انہوں نے کہا کہ یہ صورت حال صحافت کی پائیداری اور جمہوریت کے لیے خطرہ ہے۔
کمپنیوں کے ردعمل
ابھی تک، گوگل نے اپنی عدم اتفاقی کا اظہار کیا ہے، یہ دلیل دیتے ہوئے کہ خبروں کے لنکس اور ٹکڑے پہلے ہی میڈیا کی ویب سائٹس پر ٹریفک بھیجتے ہیں۔ میٹا نے دھمکی دی ہے کہ وہ آسٹریلیا میں اپنے پلیٹ فارمز سے خبریں ہٹا دے گا، جیسا کہ اس نے 2021 میں پچھلے کوڈ پر مذاکرات کے دوران کیا تھا۔ مائیکروسافٹ نے زیادہ مفاہمانہ رویہ اپنایا ہے، حالانکہ ابھی تک کوئی سرکاری بیان جاری نہیں کیا۔
عالمی اثرات: کیا پاکستان اور دیگر ممالک اگلے ہو سکتے ہیں؟
آسٹریلیا کا یہ فیصلہ دوسری حکومتوں کو متاثر کر سکتا ہے، بشمول جنوبی ایشیا کے ممالک جہاں ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کی خبروں کے استعمال پر بحث جاری ہے۔ برازیل اور کینیڈا پہلے ہی اسی طرح کے اقدامات کر چکے ہیں۔ آسٹریلوی اقدام ثابت کرتا ہے کہ ٹیکنالوجی کی بڑی کمپنیوں کا ضابطہ ممکن اور ضروری ہے تاکہ مقامی میڈیا کو تحفظ دیا جا سکے۔
پاکستان اور بھارت جیسے ممالک میں، جہاں میڈیا ادارے اشتہاری آمدنی میں کمی کا سامنا کر رہے ہیں، اس قسم کے قوانین پر عمل درآمد ایک اہم قدم ہو سکتا ہے۔ تاہم، ٹیکنالوجی کمپنیاں اس طرح کے ضابطے سے بچنے کے لیے حکومتوں پر دباؤ ڈال سکتی ہیں۔ مقامی میڈیا تنظیمیں پہلے ہی اسی طرح کے ماڈل پر غور کرنے کا مطالبہ کر رہی ہیں۔ آسٹریلوی قانون صحافت کی پائیداری کی جنگ میں ایک اہم مثال کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔