اقوام متحدہ کی 81ویں جنرل اسمبلی میں ایران اور امریکہ کے درمیان لفظی جنگ شدت اختیار کر گئی ہے۔ ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے ڈونلڈ ٹرمپ کی 'تباہی' والی دھمکیوں کا بھرپور جواب دیا ہے، جبکہ پسِ پردہ خلیجِ عمان (Strait of Hormuz) کی بندش ختم کرنے اور منجمد اثاثوں کی واپسی کے لیے خفیہ مذاکرات جاری ہیں۔

اقوام متحدہ کی 81ویں جنرل اسمبلی کا منظر نامہ امریکہ اور ایران کے درمیان ایک شدید سفارتی میدان میں بدل گیا ہے۔ اسلامی جمہوریہ ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے اپنی تقریر کے دوران صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے سخت موقف کا براہ راست مقابلہ کیا۔ ٹرمپ نے نومبر کے قانون ساز انتخابات کے بعد جوہری عدم پھیلاؤ کے معاہدے کو ایرانی حکومت کی بقا کی شرط قرار دیا تھا۔

تنازع کا پس منظر: عالمی بحران کی وجہ

یہ موجودہ کشیدگی فروری 2026 سے جاری مسلح تصادم اور خلیجِ عمان (Strait of Hormuz) کی تزویراتی بحری ناکہ بندی کا نتیجہ ہے۔

وضاحت: خلیجِ عمان دنیا کا سب سے اہم سمندری راستہ ہے جہاں سے عالمی تیل کی ایک بڑی مقدار گزرتی ہے۔ اس کی بندش کی وجہ سے خام تیل کی قیمتیں 100 امریکی ڈالر سے اوپر چلی گئی ہیں، جس سے پوری دنیا میں توانائی کا بحران پیدا ہو گیا ہے۔

واشنگٹن کا دباؤ ایران کے جوہری پروگرام پر ہے، جبکہ تہران کا دعویٰ ہے کہ اس کا پروگرام مکمل طور پر پرامن مقاصد کے لیے ہے۔

اپنی تقریر کے دوران، صدر پزشکیان نے ایک جذباتی اور علامتی اقدام کرتے ہوئے امریکی حملوں میں جاں بحق ہونے والے بچوں کی تصاویر دکھائیں، جس کے نتیجے میں امریکی وفد ہال سے باہر نکل گیا۔ ایرانی صدر نے واضح کیا کہ ایران طاقت کی زبان یا کسی بھی "بُلّی" (بلینگ کرنے والے) کے سامنے "سر نہیں جھکائے گا"۔ انہوں نے عالمی برادری کے دوہرے معیار پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اسرائیل کے جوہری ہتھیاروں کو قبول کیا جاتا ہے لیکن ایران کی جوہری ٹیکنالوجی پر پابندیاں لگائی جاتی ہیں۔

اہم نکات
  • 📅 تاریخ: 23 ستمبر 2026
  • 🛢️ تیل کی قیمت: 100+ USD
  • 📍 مقام: اقوام متحدہ جنرل اسمبلی
  • 🔑 بنیادی مطالبہ: بحری ناکہ بندی کا خاتمہ

پردے کے پیچھے سفارت کاری: عراغچی کا کردار

عوامی سطح پر دشمنی کے باوجود، سفارتی کوششیں جاری ہیں۔ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراغچی نے قطر کی ثالثی میں امریکی نمائندوں کے ساتھ ملاقاتیں کی ہیں۔ تہران کے مطالبات واضح ہیں:

  1. 🚢 بحری ناکہ بندی کا خاتمہ
  2. ⚔️ مزاحمتی محاذوں پر دشمنیوں کا خاتمہ
  3. 💰 منجمد مالیاتی اثاثوں کی فوری واپسی

واشنگٹن کی جانب سے سیکریٹری اسٹیٹ مارکو روبیو نے ان ملاقاتوں کو "مثبت" قرار دیا، اگرچہ انہوں نے اعتراف کیا کہ ابھی تک کوئی بڑی پیش رفت نہیں ہوئی۔ دوسری طرف، اٹلی کے انتونیو تاجانی نے ایران پر زور دیا ہے کہ وہ اپنے لہجے میں नरمی لائے اور جوہری ہتھیاروں کی خواہش کو مکمل طور پر چھوڑ دے۔

مستقبل کے امکانات

نومبر کے انتخابات کے بعد دو راستے ہو سکتے ہیں: یا تو ایک عملی پسندانہ حل، جہاں ٹرمپ اثاثوں کی واپسی کے بدلے جوہری پروگرام کی بندش کا معاہدہ کریں، یا پھر فوجی تصادم، جس سے تیل کی قیمتیں تاریخی سطح پر پہنچ سکتی ہیں اور عالمی معیشت کو شدید دھچکا لگ سکتا ہے۔

حوالہ: ANSA News