اقوام متحدہ کی 81 ویں جنرل اسمبلی کے موقع پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے 'زیادہ سے زیادہ دباؤ' کی پالیسی اپنائی ہے۔ جہاں ایک طرف انہوں نے ایران کو تباہی کی دھمکی دی ہے، وہیں دوسری طرف خفیہ مذاکرات بھی جاری ہیں۔ عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں 100 ڈالر سے تجاوز کر چکی ہیں اور واشنگٹن اب آرکٹک سے لے کر یوکرین تک اپنی فوجی اور سیاسی گرفت مضبوط کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔

جنگ یا امن: ایران کا مشکل فیصلہ

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اقوام متحدہ میں اپنے خطاب کے دوران دنیا کو حیران کر دیا ہے۔ انہوں نے اسلامی جمہوریہ ایران کے سامنے دو ہی راستے رکھے ہیں: یا تو ایک حتمی امن معاہدے پر دستخط کریں یا پھر حکومت کی "مکمل تباہی" (Annihilation) کے لیے تیار رہیں۔

سخت بیانات کے باوجود، قطر کی ثالثی میں امریکی وفد (جس کی قیادت اسٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر کر رہے تھے) اور ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کے درمیان تین گھنٹے تک شدید مذاکرات ہوئے۔ ایران کا موقف ہے کہ جنگ بندی کے لیے امریکی بحری ناکہ بندی ختم کرنا اور ایران کے منجمد اثاثے واپس کرنا ضروری ہے۔ یہ صورتحال اس وقت سامنے آئی ہے جب فروری 2026 سے شروع ہونے والی جنگ نے عالمی سطح پر توانائی کی قیمتوں کو آسمان تک پہنچا دیا ہے۔

جیو پولیٹیکل تناظر: 2026 کا بحران کیا ہے؟

اس تناؤ کی اصل وجہ پرانے جوہری معاہدوں کا ٹوٹنا اور دشمنی میں اضافہ ہے، جس نے فروری 2026 میں ایک مسلح تصادم کی شکل اختیار کر لی۔ اس جنگ میں "پروکسیز" (Proxies) یعنی ایسے گروہوں کا استعمال کیا گیا جو کسی دوسری ریاست کے اشارے پر کام کرتے ہیں، جیسے کہ باب المندب کی تنگہ میں حوثی باغی۔ واشنگٹن کا مقصد تہران کو ایٹمی صلاحیت حاصل کرنے سے روکنا ہے، جبکہ ایران کے لیے بحری ناکہ بندی اس کی معیشت کے لیے ایک بڑا خطرہ ہے۔

عالمی حکمت عملی: آرکٹک سے وینزویلا تک

صدر ٹرمپ کا ایجنڈا صرف مشرق وسطیٰ تک محدود نہیں ہے، بلکہ وہ پوری دنیا میں سکیورٹی کے نظام کو دوبارہ ترتیب دے رہے ہیں:

آرکٹک پر کنٹرول: ڈنمارک اور گرین لینڈ کے ساتھ ایک معاہدے کے تحت امریکہ وہاں دو فوجی اڈے بنائے گا تاکہ روس اور چین کے مقابلے میں اہم تجارتی راستوں پر قبضہ کیا جا سکے۔
یوکرین-روس محور: امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو اور سرگے لاوروف کے درمیان ملاقاتیں ہو رہی ہیں۔ ٹرمپ یوکرین جنگ کو جلد ختم کرنا چاہتے ہیں، لیکن روس پر دباؤ ڈالنے کے لیے روسی توانائی کے درآمد کنندگان پر 100% ٹیرف (Tax) لگانے کی دھمکی دی ہے۔
وینزویلا میں تبدیلی: صدر ٹرمپ نے نکولس مادورو کی حکومت کے خاتمے کے لیے فوجی آپریشن کی تعریف کی ہے اور اب وہ ڈیلسی روڈریگس (جو اب عبوری صدر ہیں) کے ساتھ مذاکرات شروع کر چکے ہیں۔
ٹیکنالوجی کی نئی اصطلاح: ٹرمپ نے "آرٹیفیشل انٹیلیجنس" (AI) کی جگہ "سپر انٹیلیجنس" (Super Intelligence) کی اصطلاح استعمال کرنے کی تجویز دی ہے، تاکہ امریکہ چین کے مقابلے میں اپنی تکنیکی برتری کو برقرار رکھ سکے۔

تاہم، ان اقدامات پر تنقید بھی ہو رہی ہے۔ فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے ایران میں بمباری کے ذریعے حکومت بدلنے کی کوشش کو ایک غلطی قرار دیا، جبکہ امریکی سینیٹر برنی سینڈرز نے تباہی کی دھمکیوں کو "جنگی جرم" قرار دیا ہے۔

مستقبل کی پیش گوئی

مختصر مدت میں، یہ ممکن ہے کہ واشنگٹن اور تہران کے درمیان ایک کمزور معاہدہ ہو جائے اگر تیل کی قیمتوں کا دباؤ ٹرمپ کو مارکیٹ مستحکم کرنے پر مجبور کر دے۔ ساتھ ہی، گرین لینڈ میں فوجی موجودگی سے ماسکو کے ساتھ سفارتی تناؤ بڑھ سکتا ہے۔ آخر میں، "سپر انٹیلیجنس" کا نظریہ شاید ایک نئی تکنیکی ہتھیاروں کی دوڑ کو تیز کر دے۔

اصل خبر کا حوالہ: Al Jazeera English