اقوام متحدہ کی 81ویں جنرل اسمبلی میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے عالمی سیاست کے نقشے کو بدل کر رکھ دیا ہے۔ ایران کو 'تباہی' کی الٹی میٹم، کیوبا کو 'ناکام ریاست' قرار دینے اور گرین لینڈ میں فوجی اڈوں کی تعمیر کے اعلان نے دنیا بھر میں ہلچل مچا دی ہے، جبکہ یوکرین جنگ کے خاتمے کے لیے شدید دباؤ بڑھایا گیا ہے۔

نیویارک میں منعقدہ اقوام متحدہ کی 81ویں جنرل اسمبلی ایک ایسی اسٹیج بن گئی ہے جہاں امریکہ دنیا کی ترتیب کو اپنی مرضی سے بدلنے کی کوشش کر رہا ہے۔ عالمی توانائی کے بحران اور یورپی اتحاد کی کمزوری کے درمیان، ڈونلڈ ٹرمپ نے آرکٹک سے لے کر خلیج فارس تک سخت ترین پالیسیوں کا اعلان کیا ہے۔

عالمی صورتحال: پس منظر (Context)

اس وقت دنیا شدید توانائی کے بحران سے گزر رہی ہے جہاں خام تیل کی قیمت 100 امریکی ڈالر سے تجاوز کر چکی ہے۔ اس کی بنیادی وجوہات خلیج عمان (Strait of Hormuz) کی بندش اور بحیرہ احمر میں حوثیوں کے حملے بتائے جاتے ہیں۔ اس کے علاوہ، روس اور یوکرین کی جنگ نے عالمی سپلائی لائنز کو متاثر کیا ہے، جس کی وجہ سے شمالی بحر اوقیانوس میں فوجی موجودگی کی اہمیت بڑھ گئی ہے۔

امریکی حکمت عملی کے تین بڑے ستون

1. ایران کو الٹی میٹم

ٹرمپ نے اسلامی جمہوریہ ایران کو واضح انتخاب دیا ہے: یا تو ایک نئے معاہدے کے ذریعے ملک کی تعمیرِ نو کی جائے یا پھر مکمل تباہی کا سامنا کیا جائے۔ تاہم، ذرائع کے مطابق دونوں ممالک کے حکام کے درمیان تین گھنٹے کی خفیہ ملاقات بھی ہوئی ہے، جو مذاکرات کی امید دلاتی ہے۔

2. آرکٹک اور ٹیکنالوجی

ڈنمارک اور گرین لینڈ کے ساتھ معاہدے کے تحت دو بڑے فوجی اڈے بنائے جائیں گے۔ ساتھ ہی، ٹرمپ نے AI (مصنوعی ذہانت) کی جگہ اب 'سپر انٹیلیجنس' کی اصطلاح استعمال کرنے پر زور دیا ہے تاکہ عالمی قوانین پر گرفت مضبوط کی جا سکے۔

3. یوکرین اور کیوبا

ٹرمپ نے کیوبا کو ایک 'ناکام ریاست' (Failed State) قرار دیا، جس کے بعد کیوبا کا وفد احتجاجاً اجلاس سے باہر نکل گیا۔ دوسری طرف، انہوں نے ولادیمیر پوتن سے مطالبہ کیا کہ توانائی کی قیمتوں کو مستحکم کرنے کے لیے یوکرین جنگ کا فوری خاتمہ کیا جائے۔

سفارتی ردعمل اور انسانی حقوق

یوکرین کے صدر وولودیمیر زیلنسکی نے واضح کیا ہے کہ جنگ میں کمی صرف تب ہوگی جب روس توانائی اور خوراک کے بنیادی ڈھانچے پر حملے بند کرے گا۔ دوسری جانب، اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس نے مغربی کنارہ (West Bank) میں 'نسلی صفائی' کا خدشہ ظاہر کیا ہے اور روس کی جانب سے اقوام متحدہ کے چارٹر کی خلاف ورزی کی مذمت کی ہے۔

تعلیمی پہل: 'Fostering the Future'

جہاں صدر ٹرمپ سخت لہجہ اپنائے ہوئے ہیں، وہیں میلانیا ٹرمپ نے اپنی امیج کو نرم کرنے کے لیے ایک تعلیمی اتحاد شروع کیا ہے۔ اس میں OpenAI، Google اور Meta جیسی بڑی کمپنیاں شامل ہیں تاکہ نئی نسل کو جدید ٹیکنالوجی کی تعلیم دی جا سکے۔ مزید معلومات کے لیے Imago News ملاحظہ کریں۔

مستقبل کے امکانات

اگر ایران کے ساتھ معاہدہ نہ ہوا تو خلیج فارس میں بڑے پیمانے پر فوجی تصادم کا خطرہ ہو سکتا ہے۔ گرین لینڈ میں فوجی اڈوں کی تعمیر سے یورپی اتحادیوں کے درمیان تناؤ بڑھ سکتا ہے کیونکہ وہ ایک خود مختار 'یورپی نیٹو' چاہتے ہیں۔ تاہم، یہ امید کی جا سکتی ہے کہ عالمی توانائی کے بحران کو ختم کرنے کے لیے روس اور امریکہ کے درمیان کوئی محدود معاہدہ ہو جائے۔