اقوام متحدہ کی 81ویں جنرل اسمبلی کے دوران، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے تہران کے خلاف اپنے لہجے کو مزید سخت کر دیا ہے۔ ٹرمپ نے ایرانی حکومت کی بقا کو ایک ایسے معاہدے سے مشروط کر دیا ہے جو مشرق وسطیٰ میں عدم استحکام کو ختم کر سکے۔ عالمی توانائی کے بحران کے درمیان یہ صورتحال دنیا بھر میں تناؤ کو بڑھا رہی ہے۔

نیویارک میں ڈونلڈ ٹرمپ کی تقریر ریاستہائے متحدہ کی قومی سلامتی کی حکمت عملی میں ایک اہم موڑ ثابت ہو سکتی ہے، جہاں وہ شدید فوجی دباؤ اور اپنے قریبی مشیروں کے ذریعے مذاکرات کے درمیان توازن پیدا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

پس منظر: 'زیادہ سے زیادہ دباؤ' کی جنگ (Maximum Pressure)

موجودہ تناؤ دراصل 2015 کے جوہری معاہدے سے امریکہ کے علیحدگی کے بعد برسوں کی رگڑ کا نتیجہ ہے۔ 2026 میں، ایران کی جانب سے اسٹریٹ آف ہرمز (Strait of Hormuz) کی ناکہ بندی اور یمن میں حوثی باغیوں کے سعودی انفراسٹرکچر پر حملوں نے صورتحال کو مزید خراب کر دیا ہے۔ اسٹریٹ آف ہرمز دنیا کا سب سے اہم تیل کا راستہ ہے، جس کی بندش کی وجہ سے عالمی منڈی میں تیل کی قیمت 100 امریکی ڈالر سے تجاوز کر گئی ہے، جس سے یورپ اور امریکہ سمیت پوری دنیا میں توانائی کا بحران پیدا ہو گیا ہے۔

جنرل اسمبلی میں حتمی وارننگ

اقوام متحدہ کی 81ویں جنرل اسمبلی میں خطاب کرتے ہوئے، ڈونلڈ ٹرمپ نے واضح طور پر کہا کہ تہران کی حکومت کو یا تو مشرق وسطیٰ میں جنگ کے خاتمے کے لیے معاہدہ قبول کرنا ہوگا یا پھر "تباہی" (Annihilation) کا سامنا کرنا پڑے گا۔ یہ دھمکی محض اتفاقی نہیں بلکہ ایک سیاسی حکمت عملی کا حصہ ہے؛ ٹرمپ نے اشارہ دیا کہ حتمی فیصلہ اور معاہدے کا امکان نومبر میں ہونے والے امریکی عبوری انتخابات (Midterms) کے بعد طے پائے گا۔

اس تبدیلی کو عملی جامہ پہنانے کے لیے امریکی انتظامیہ نے ایک متوازی سفارتی مشینری فعال کر دی ہے، جس میں اسٹیو وٹکوف اور جارڈ کشنر جیسی شخصیات کو اسٹریٹ آف ہرمز کے دوبارہ کھلنے کے لیے مذاکرات کی ذمہ داری سونپی گئی ہے۔ اس کا مقصد عالمی توانائی کی مارکیٹ کو مستحکم کرنا اور خطے میں ایرانی اثر و رسوخ کو ختم کرنا ہے۔

توانائی پر اثرات

تیل کی قیمت 100 ڈالر سے اوپر جانے کے بعد امریکہ میں داخلی دباؤ بڑھ گیا ہے۔ ڈیزل کی بڑھتی ہوئی قیمتیں کلیدی ریاستوں میں ریپبلکن پارٹی (GOP) کے انتخابی نتائج پر اثر انداز ہو سکتی ہیں۔

علاقائی اتحاد

ٹرمپ نے بحیرہ احمر (Red Sea) کی حفاظت اور اس بات کو یقینی بنانے کے لیے فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون کے ساتھ ہم آہنگی پیدا کی ہے کہ خام تیل کی فراہمی میں کوئی رکاوٹ نہ آئے۔

عالمی تناظر اور امکانات
  • امکان ہے کہ ایران نومبر سے پہلے امریکی譲ت حاصل کرنے کے لیے یمن میں اپنے اتحادیوں کے ذریعے دباؤ بڑھائے گا۔
  • شاید ایک ایسا کاروباری معاہدہ ہو جائے جس میں امریکہ اسٹریٹ آف ہرمز کے مکمل کھلنے کے بدلے کچھ پابندیاں نرم کر دے۔
  • اگر تہران نے اس الٹی میٹم کو فوری حملے کی علامت سمجھا تو فوجی کشیدگی بڑھ سکتی ہے، جس سے تیل کی قیمتیں 120 ڈالر تک جا سکتی ہیں۔
  • سب کچھ Midterms انتخابات کے نتائج سے جڑا ہے؛ اگر کانگریس میں ریپبلکنز کی شکست ہوتی ہے تو ایران کے سامنے ٹرمپ کی مذاکراتی پوزیشن کمزور ہو سکتی ہے۔

مزید تفصیلات کے لیے Imago پر جائیں