اقوام متحدہ کی 81 ویں جنرل اسمبلی کے دوران امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایسی سفارتی پیش رفت کا اعلان کیا ہے جو عالمی نظم و نسق کو بدل سکتی ہے۔ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ خفیہ مذاکرات اور روس و یوکرین کے درمیان ممکنہ معاہدے کے اشارے دیے ہیں، جبکہ گرین لینڈ میں فوجی موجودگی کے ذریعے عالمی طاقت کا توازن بدلنے کی کوشش کی ہے۔

عالمی سیاست میں نئی لہر: ٹرمپ کا سفارتی حملہ

نیویارک میں ہونے والی اقوام متحدہ کی اجلاس کی میزبانی کے دوران ڈونلڈ ٹرمپ نے خود کو ایک ایسے عالمی ثالث کے طور پر پیش کیا ہے جو 21 ویں صدی کے مشکل ترین تنازعات کو حل کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

ایران کے ساتھ ممکنہ معاہدہ اور توانائی کا بحران

سب سے حیران کن اعلان ایران کے ساتھ ممکنہ معاہدوں کے حوالے سے تھا، جو عالمی توانائی کے بحران کو ختم کرنے کے لیے انتہائی اہم ہو سکتا ہے۔ موجودہ صورتحال میں، اورموز آبنائے (Strait of Hormuz) کی بندش اور حوثیوں کے حملوں کی وجہ سے تیل کی قیمتیں 100 امریکی ڈالر سے تجاوز کر چکی ہیں۔ ٹرمپ نے تصدیق کی کہ ان کے نمائندوں، اسٹیو وٹکوف اور جیرڈ کوشنر نے ایرانی ثالثوں کے ساتھ ملاقاتیں کی ہیں تاکہ عالمی منڈیوں میں استحکام لایا جا سکے۔

ساتھ ہی، امریکی صدر نے دعویٰ کیا کہ روس اور یوکرین کے درمیان تنازع کے حل کی طرف پیش رفت ہو رہی ہے۔ یہ اعلان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا جب ٹرمپ اور صدر ولادیمیر زیلینسکی کے درمیان توانائی اور خوراک پر مبنی ایک محدود جنگ بندی کے حوالے سے بات چیت کی خبریں گردش کر رہی ہیں۔

پس منظر اور اہم اصطلاحات


JCPOA (ایٹمی معاہدہ): یہ امریکہ اور ایران کے درمیان ایک معاہدہ تھا جس سے امریکہ نے 2018 میں علیحدگی اختیار کر لی تھی، جس کے بعد "زیادہ دباؤ" (Maximum Pressure) کی پالیسی اپنائی گئی۔

آرکٹک کی اہمیت: شمالی قطب (Arctic) کے علاقے میں امریکہ، روس اور چین کے درمیان تجارتی راستوں اور معدنی وسائل کے کنٹرول کے لیے سخت مقابلہ ہے، جس کی وجہ سے وہاں فوجی موجودگی بڑھ رہی ہے۔

گرین لینڈ اور تزویراتی چال

ٹرمپ نے ڈنمارک اور گرین لینڈ کے ساتھ ایک مستقل سیکورٹی معاہدے پر دستخط کیے ہیں۔ اس معاہدے کے تحت امریکہ اپنے فوجی اڈوں کو وسعت دے سکے گا اور جزیرے پر روس اور چین کی سرمایہ کاری پر پابندی ہوگی، جس سے شمالی بحر اوقیانوس پر امریکی کنٹرول مزید مضبوط ہو جائے گا۔

دیزل کی برآمدات پر پابندی کی تجویز

ٹرمپ نے امریکی دیزل کی برآمدات پر پابندی کی حمایت کا اظہار کیا ہے۔ یہ اقدام عالمی سپلائی چین پر دباؤ ڈال سکتا ہے، خاص طور پر یوکرین اور دیگر اتحادیوں کے لیے جو اپنی فوجی آپریشنز کے لیے اس ایندھن پر منحصر ہیں۔

مستقبل کے ممکنہ اثرات

  • ایران کے ساتھ معاہدے سے بین الاقوامی تیل کی قیمتوں میں فوری کمی آ سکتی ہے۔
  • روس اور یوکرین کے درمیان جنگ بندی علاقائی سمجھوتوں سے مشروط ہو سکتی ہے، جس سے نیٹو (NATO) کے اندر تناؤ پیدا ہو سکتا ہے۔
  • گرین لینڈ پر فوجی کنٹرول کے نتیجے میں روس اپنی بحری طاقت میں اضافہ کر سکتا ہے۔
  • دیزل کی پابندی سے یورپی اتحادیوں کی لاجسٹک صلاحیت متاثر ہو سکتی ہے۔

ماخذ: ANSA